رسائی کے لنکس

logo-print

ممبئی میں تباہ کن بارشیں، معمول کی زندگی ٹھپ، 25 ہلاک


ممبئی میں مون سون کی موسلادھار بارشوں کے بعد روزمرہ زندگی کے معمولات متاثر ہوئے اور لوگوں کو آمد و رفت میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 2 جولائی 2019

ممبئی اور اس کے مضافات میں گزشتہ تین چار دنوں سے شدید بارش ہو رہی ہے جس کی وجہ سے معمول کی زندگی ٹھپ پڑ گئی ہے۔ متعدد حادثات میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ممبئی کی لائف لائن کہی جانے والی لوکل ٹرین کی خدمات بری طرح متاثر ہیں۔ فضائی خدمات پر بھی برا اثر پڑا ہے۔

سن 2005 میں آنے والے بدترین سیلاب کے بعد پہلی بار اس قدر بھاری بارشیں ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے ریلوے اسٹیشن، بس اڈے، ایئر پورٹ اور دیگر مقامات تالاب کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

ملاڈ ایسٹ اور کلیان میں مکان اور دیوار منہدم ہو جانے کے نتیجے میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ متعدد افراد زخمی ہیں جن کو اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

شدید بارشوں سے ممبئی میں کئی مکانات گر گئے۔ امدادی کارکن ملبے میں دب جانے والوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ 2 جولائی 2019
شدید بارشوں سے ممبئی میں کئی مکانات گر گئے۔ امدادی کارکن ملبے میں دب جانے والوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ 2 جولائی 2019

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران زیادہ بارش ہوئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے شہر میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے اور آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی وارننگ دی ہے۔

وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس مختلف علاقوں کا دورہ کر کے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ریاستی حکومت نے منگل کے روز عوامی تعطیل کا اعلان کیا جس کی وجہ سے اسکول اور کالج بند رہے۔ حکومت نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گھروں میں رہیں۔

ریلوے پٹریوں پر پانی جمع ہو جانے کی وجہ سے لوکل ٹرینوں کے علاوہ طویل مسافت کی متعدد ٹرینیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔

52 پروازیں بھی منسوخ کی گئیں اور 54 کے راستے تبدیل کر دیے گئے۔

گزشتہ شب اسپائس جیٹ کا ایک طیارہ لینڈنگ کے وقت پھسل گیا جس کے بعد چھترپتی شیواجی ایئرپورٹ کے اصل رن وے کو بند کر دیا گیا۔

رن وے سے ایک مسافر طیارہ پھسلنے کے بعد ممبئی ایئرپورٹ کو بند کر دیا گیا ہے۔ 2 جولائی 2019
رن وے سے ایک مسافر طیارہ پھسلنے کے بعد ممبئی ایئرپورٹ کو بند کر دیا گیا ہے۔ 2 جولائی 2019

ایک ماہر موسمیات ڈاکٹر گووند سنگھ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں اس قدر بارشوں کا اصل سبب ماحولیاتی تبدیلی ہے۔ اس تبدیلی کے سبب سیلاب اور خشک سالی دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بقول ان کے شروع میں یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ یہ صورت حال 20 سے 30 سال کے بعد آئے گی لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ابھی سے ہی ایسا ہو رہا ہے۔ اس وقت ملک کے کئی علاقوں میں خشک سالی ہے اور کئی علاقوں میں بارش ہو رہی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ آنے والے ایام بہت سخت ہونے والے ہیں کیونکہ ہمیں دونوں قسم کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بارشوں سے متاثرہ افراد محفوظ مقامات کی طرف جا رہے ہیں۔ 2 جولائی 2019
بارشوں سے متاثرہ افراد محفوظ مقامات کی طرف جا رہے ہیں۔ 2 جولائی 2019

مون سون کے دوران جو کہ جون سے ستمبر یا اکتوبر تک رہتا ہے ممبئی میں عام طور پر زیادہ بارشیں ہوتی ہیں اور شہر کو اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت جد و جہد کرنا پڑتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG