رسائی کے لنکس

logo-print

سری نگر: 300 پنچایتی کونسلوں کے انتخابات، ماحول بظاہر پرامن رہا


فائل

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں 24اکتوبر کو گاؤں کی سطح پر پنچایتی کونسل کے انتخابات منعقد ہوئے۔انتخابات کا انعقاد ایسے وقت پر کیا گیا ہے ، جب کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن کی صورت حال ہے۔ مقامی سیاست دان زیر حراست ہیں اور زیادہ تر سیاسی جماعتوں نے بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی حکام کو توقع ہے کہ دیہی علاقوں کے 300 بلاکس میں پنچایت کونسلوں کے انتخابات کے نتیجے میں سیاسی خلا پر ہو گا، اور مقامی مفادات کی نمائندگی کا حق ادا کرنے میں نئے منتخب ارکان ریاست کی سطح کے بدعنوان سیاسی اہل کاروں سے بہتر ثابت ہوں گے، اور بہتر کارکردگی دکھائیں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشنوں کی نگرانی پولیس اور پیرا ملٹری سے تعلق رکھنے والے دستوں نے سنبھال رکھی تھی، جب کہ چند مقامات پر سپاہی سڑکوں پر گشت کرتے رہے۔

پولیس نے بتایا ہے کہ کہیں سے بھی ہنگامہ آرائی کو کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

پانچ اگست سے ریاست کے تقریباً تمام سیاستدان قید ہیں یا سرکاری حراست میں ہیں، جب کہ انٹرنیٹ، موبائل ٹیلی فون سروس بند ہے، اور دیگر مواصلاتی ذرائع پر قدغنیں لاگو ہیں۔

خبر رساں ادارے ’ایسو سی ایٹڈ پریس‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بنیادی بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ ان جماعتوں نے بھی کیا جو اب تک مرکزی حکومت کے لیے نرم گوشہ رکھتی رہی ہیں؛ لیکن، اُن کے رہنما اِن دنوں جیلوں میں یا گھروں پر نظربند ہیں۔ یہاں تک کہ بھارت کی اہم حزب اختلاف، کانگریس پارٹی نے بھی بائیکاٹ کر رکھا تھا، جس سے وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی جیت کی راہیں کھلی تھیں۔

ایک کروڑ 20 لاکھ آبادی والے اس خطے میں کئی عشروں سے بھارت مخالف بغاوت کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارتی زیر انتظام کشمیر کی وادی میں بی جے پی کو بہت ہی کم حمایت حاصل رہی ہے۔

گزشتہ سال جن 300 ترقیاتی کونسلوں کو تشکیل دیا گیا تھا، جمعرات کو ان کے پنچایتی سربراہ منتخب کیے گئے۔

ہر بلاک میں جموں و کشمیر کے دیہات شامل ہیں، جنھیں اگست میں بھارتی وفاق کا علاقہ قرار دیا گیا ہے، یہ نظام 31 اکتوبر سے نافذ العمل ہو گا۔

انتخابات میں اندازاً 1000 امیدواروں نے حصہ لیا۔ کم از کم 25 کونسلوں کے امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔

دوسری طرف وائس آف امریکہ کے نمائندے یوسف جمیل نے رپورٹ کیا ہے کہ شوپیاں ضلعے میں میں سیبوں کے ٹرک لے جانے والے دو ٹرک ڈرائیوروں کو قتل کردیا گیا ہے ، جبکہ ایک ٹرک کے عملے کا رکن زخمی ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG