رسائی کے لنکس

logo-print

سرینگر: نمازِ جمعہ کے بعد مظاہرے اور جھڑپیں، متعدد زخمی


فائل فوٹو

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے صدر مقام سرینگر میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نے جلوس نکالا اور بھارت مخالف نعرے لگائے جب کہ اس دوران سیکورٹی فورسز سے جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

سرینگر سمیت وادی کے دیگر شہروں کی بڑی مساجد میں جمعے کی نماز کے اجتماعات منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جس کے بعد لوگوں نے محلے کی مساجد میں نمازِ جمعہ ادا کی۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے یوسف جمیل کے مطابق، بعض مقامات پر لوگوں نے مساجد سے نکلتے ہی بھارت مخالف نعرے لگائے اور بعد ازاں اس ہجوم نے ایک جلوس کی شکل اختیار کر لی جس میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔

سیکورٹی فورسز نے حفاظتی دستوں نے جلوس کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے بعد مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

حفاظتی دستوں نے پتھراؤ کرنے والے ہجوم پر چھرّے والی بندوقوں سے فائر کیے جس کے چھرّے لگنے سے متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی جانب سے احتجاج کی کال کے بعد پابندیوں میں مزید سختی کر دی گئی تھی۔

سرینگر کی مرکزی سڑکوں پر ناکے لگائے گئے ہیں جب کہ وادی میں کرفیو جسی صورتِ حال برقرار ہے۔

پابندیوں میں اضافہ علیحدگی پسندوں کی جانب سے سرینگر میں پوسٹرز لگائے جانے کے بعد کیا گیا تھا۔

سرینگر میں ہفتے کو کئی مقامات پر پوسٹرز چسپاں کیے گئے تھے جن میں درج تھا کہ لوگ جمعے کی نماز کے بعد باہر نکلیں اور اقوامِ متحدہ کے مبصرین کے دفتر کی طرف مارچ کریں۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد چھ سو سے زائد علیحدگی پسند رہنماؤں، مقامی سیاست دانوں اور سماجی کارکنوں سمیت دیگر افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

کشمیر میں پولیس کی جانب سے مقامی نوجوانوں کو حراست میں لینے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے جب کہ جمّوں میں بھی گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کو حراست میں لینا ناگزیر ہے جنہوں نے حالیہ دنوں میں امن و امان کی صورتِ حال میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی ہے یا مستقبل میں ان کی طرف سے ایسا کرنے کا امکان موجود ہے۔ لیکن، حکام نے صحافیوں کے اصرار کے باوجود گرفتاریوں کی تعداد ظاہر کرنے سے گریز کیا۔

وادی میں رابطے کے ذرائع، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروس بھی کئی دنوں سے بند ہیں۔ ٹیلی فون سروس کو حالیہ دنوں میں جزوی طور پر چند علاقوں میں کھولا گیا ہے لیکن اکثر علاقوں میں اب بھی رابطوں کے ذرائع بند ہیں۔

آئین کی خصوصی شق کے خاتمے کے بعد سے اب تک علیحدگی پسندوں کی جانب سے مظاہرے کی یہ پہلی باضابطہ کال تھی جس کے پیشِ نظر وادی میں سیکورٹی انتہائی سخت کی گئی ہے۔

سرینگر میں اقوامِ متحدہ کے مبصر گروپ کے دفتر کو جانے والی مرکزی شاہراہ کو عام افراد کی آمدورفت کے لیے رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا ہے اور درجنوں نیم فوجی اہلکار اس سڑک پر تعینات ہیں۔

وادی کے متعدد علاقوں میں پولیس سڑکوں پر گشت کر رہی ہے اور کرفیو کے اعلانات کیے جا رہے ہیں جن میں لوگوں کو اپنے گھروں میں رہنے کی ہدایات بھی دی جا رہی ہیں۔

سرینگر کا سیاحتی مقام ڈل جھیل بھی بند ہے اور جھیل میں پولیس اہلکار کشتیوں میں سوار ہو کر گشت اور نگرانی کر رہے ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کا جمعے کو کشمیر سے متعلق ایک اور بیان سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیر کی صورتِ حال سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ’’’ہم بھارتی میڈیا کے دعوے سن رہے ہیں کہ کچھ دہشت گرد اپنی کارروائیوں کے لیے افغانستان سے کشمیر اور بھارت کے جنوبی علاقوں میں گھس چکے ہیں۔‘‘

عمران خان کے بقول ’’بھارتی میڈیا کے ان دعووں سے واضح ہوگیا ہے کہ کشمیر میں قتلِ عام اور کشمیریوں کی نسل کشی سے توجہ ہٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’میں اقوامِ عالم کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ بھارتی قیادت ممکنہ طور پر کشمیر سے توجّہ ہٹانے کے لیے جعلی فلیگ آپریشن کا سہارا لینے کی کوشش کرے گی۔‘‘

یاد رہے کہ سرینگر میں گزشتہ دو ہفتوں میں متعدد مقامات پر مظاہرے ہوئے ہیں جب کہ سیکورٹی اہلکاروں سے جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئی ہیں۔

مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے چھرّوں والی گن اور آنسو گیس کے شیل استعمال کیے گئے ہیں جن سے کم از کم 152 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے تعلقات بھی انتہائی کشیدہ ہیں۔ رواں ہفتے پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے بھارت سے مزید مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا تھا۔

عمران خان نے بدھ کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت ایٹمی طاقت ہیں جو ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہیں۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے سبب کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنے بیانات میں کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں جب کہ انہوں نے متعدد مرتبہ دونوں ملکوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔

​دوسری جانب، بھارت کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کو اپنا داخلی معاملہ قرار دیتا ہے۔

بھارت کا مؤقف ہے کہ کشمیر کے معاملے پر وہ پاکستان سے اس وقت مذاکرات کرے گا جب پاکستان اپنی سر زمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے جب کہ پاکستان اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے کہ اس کی زمین کسی دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG