رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر میں پابندیوں کا اٹھارہواں دن، لوگوں کی مشکلات میں اضافہ


فائل فوٹو
فائل فوٹو

جمعرات کو لگاتار اٹھارہویں روز بھی بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے بیشتر علاقوں میں شہریوں کی نقل و حرکت پر عائد کردہ پابندیاں جاری رہیں۔ تاہم، دارالحکومت سری نگر اور وادئ کشمیر کے چند دوسرے شہروں اور قصبوں کے مخصوص علاقوں میں پابندیوں کو نرم کیا گیا۔

اس دوران وہاں نجی گاڑیوں کی آمد و رفت میں گزشتہ دنوں کے مقابلے میں تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بعض مقامات پر اکا دُکا دکانیں کھلیں اور خوانچہ فروشوں نے سڑکوں کے کناروں پر اپنا مال سجایا۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو وہاں خریداری کرتے دیکھا گیا۔

قبرستاں پر عارضی سبزی منڈی

البتہ، سری نگر کے حساس علاقے جن میں تاریخی پُرانا شہر خاص طور پر شامل ہے مسلسل بندشوں کی زد میں ہیں جس کے باعث لوگوں کو طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور مواصلات کے دوسرے ذرائع پر عائد کی گئی مکمل پابندی کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ رابطے قائم نہیں کر پا رہے ہیں۔

یہ نامہ نگار حکام کے جاری کردہ کرفیو پاس کی بدولت گنجان آبادی والے پرانے شہر میں جو شہرِ خاص بھی کہلاتا ہے، داخل ہونے میں کامیاب ہوا تو مکینوں نے بتایا کہ وہ دودھ، سبزیاں اور کھانے پینے کی دوسری اشیاء کے لیے پو پھٹنے سے پہلے شہر کے مشرقی علاقے میں کوہِ ماراں یا ہاری پربت پہاڑی کے دامن میں واقع ایک بڑے قبرستان 'ملہ کھاہ' کا رخ کرتے ہیں، جہاں نمازِ فجر سے پہلے پہلے ایک منڈی لگتی ہے۔ سری نگر کی ڈل اور نگین جھیلوں سے سبزیاں وہاں پہنچائی جاتی ہیں۔یہ دونوں جھیلیں اپنے پانیوں پر تیرنے والے باغیچوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ ان باغیچوں میں قسم قسم کی سبزیاں اگائی جاتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس عارضی منڈی میں اجناس اور دودھ وغیرہ مضافاتی علاقوں سے لائے جاتے ہیں۔ لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ شہر خاص کے اُن اندرونی تنگ و تاریک علاقوں میں، جہاں سیکورٹی اہل کار جانے سے اجتناب کرتے ہیں، وہاں بھی علی الصباح اور رات نو بجے کے بعد کریانے، ادویات اور نان بائیوں کی دکانیں کھلتی ہیں۔

مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے

ان علاقوں میں تقریباً ہر روز شام کے وقت لوگ چھوٹے چھوٹے جلوسوں میں سڑکوں پر مارچ کرتے ہیں اور بھارت سے آزادی کے مطالبے کے حق میں نعرہے لگاتے ہیں۔

گزشتہ 17 روز کے دوران ان کے اور حفاظتی دستوں کے درمیان کئی مرتبہ جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ مظاہرین کو روکنے کے سیکورٹی فورسز کی جانب سے آنسو گیس اور ان پر مظاہرین کے پتھراؤ کے واقعات بھی تقریباً روزانہ دو تین گھنٹوں کے لیے جاری رہتا ہے۔ سری نگر کے فتح کدال سمیت کچھ علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے چھرے والی بندوقوں کے استعمال کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

سیکورٹی فورسز کا رویہ

ایک مقامی شخص نذیر احمد ڈار نے بتایا کہ انہوں نے ماضی کے مقابلے میں سیکورٹی فورسز کو صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے پایا۔

"میں 2008، 2009، 2010 اور 2016 میں اس طرح کے واقعات کا بھی چشم دید گواہ ہوں۔ تب سرکاری فورسز طاقت کا اندھا دھند استعمال کرتی تھیں۔ ان پر ایک آدھ پتھر بھی پھینکا جاتا تو وہ اس کا جواب گولی میں دیتے تھے۔ آج وہ ہتھیاروں کا استعمال کرنے میں احتیاط برتتے ہیں۔"

کئی گنجان آباد علاقوں میں پولیس اور دوسرے سیکورٹی اہل کاروں کی فوری رسائی روکنے کے لیے لوگوں نے رابطہ سڑکوں اور گلی کوچوں پر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔

ایک معمر شخص عبد الرزاق آہنگر نے بتایا کہ مقامی باشندے عقبی راستوں کا استعمال کرتے ہیں جن سے حفاظتی دستے یا تو واقف نہیں یا ان سے گزرنا خطرے سے خالی نہیں سمجھتے۔

پولیس کی پکڑ دھکڑ جاری

پولیس وادی میں نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ جاری رکھے ہوئے ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کو پکڑنا ضروری ہے جنہوں نے حالیہ دنوں میں امن و امان میں رخنہ ڈالا یا مستقبل میں ان کی جانب سے یہ خطرہ موجود ہے۔ ا

صحافیوں کے اصرار کے باوجود پولیس نے گرفتاریوں کی صحیح تعداد بتانے سے انکار کیا ۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام گرفتاریاں قانون کے مطابق کی گئی ہیں۔

اگست کے پہلے ہفتے میں بھارتی زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے اقدام سے پہلے یا اس کے فورا" بعد 600 سے زائد سیاسی لیڈروں اور کارکنوں، تاجر انجمنوں کے عہدیداروں، سول سوسائٹی گروپس کے ارکان، وکلاء اور دوسرے سرکردہ افراد کو گرفتار کیا گیا یا انہیں گھروں میں نظر بند کردیا گیا۔ ان میں سابق وزرائے فاروق عبد اللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی شامل ہیں۔

حکام کہتے ہیں کہ بیشتر گرفتاریاں احتیاطی نوعیت کی ہیں۔ تاہم، دو سو سے زائد زیر حراست افراد کو بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں بھیج دیا گیا ہے، جن میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبد القیوم بھی شامل ہیں۔

امریکہ کی قیدیوں کی رہائی کی اپیل

بدھ کو امریکی حکومت نے گرفتاریوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا کہ قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ریاست میں لوگوں کے بنیادی حقوق بحال کیے جائیں۔ واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کے ایک سینئیر افسر نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں علاقے میں گرفتاروں اور شہریوں پر عائد قدغنوں کی اطلاعات پر بڑی تشویش ہے۔ ہم انفرادی حقوق کے احترام، قانون کی پاسداری اور جامع مکالمے پر زور دیتے ہیں"۔

اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے ساتھ ٹیلیفون رابطے کے ایک دن بعد ایک بار پھر کہا کہ "میں ثالثی یا کچھ اور کرنے کے لیے اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کروں گا۔ میرے ان دونوں (نریندر مودی اور عمران خان) کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔ لیکن فی الوقت وہ (بھارت اور پاکستان) آپس میں صحیح دوست نہیں ہیں"۔

کشیمر پر اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور امریکی صدر کے ان تازہ بیانات سے مقامی آبادی میں امید کی ایک نئی کرن پیدا ہو گئی ہے۔ تاہم، کئی لوگوں نے فرانس، افغانستان، متحدہ عرب امارات، سری لنکا اور بنگلہ دیش کی حکومتوں پر مایوسی کا اظہار کیا ہے جنہوں نے کشمیر پر بھارتی اقدام کو اس کا اندرونی معاملہ قرار دیا تھا۔

  • 16x9 Image

    یوسف جمیل

    یوسف جمیل 2002 میں وائس آف امریکہ سے وابستہ ہونے سے قبل بھارت میں بی بی سی اور کئی دوسرے بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نامہ نگار کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ انہیں ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں اب تک تقریباً 20 مقامی، قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا جاچکا ہے جن میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی طرف سے 1996 میں دیا گیا انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG