رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کو ایرانی خام تیل کی ادائیگیوں میں دشواری


بھارت کو ایرانی خام تیل کی ادائیگیوں میں دشواری

بھارت کو ان دنوں ایران سے خریدے جانے والے خام تیل کی ادائیگیوں کے سلسلے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے اور اس کی وجہ ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے باعث اس پر عائد اقوام متحدہ کی پابندیاں ہیں۔

بھارت کو تیل کی ادائیگیوں کے مسئلے کا سب سے پہلے سامنا دسمبر میں اس وقت کرنا پڑاتھا جب بھارت کے مرکزی بینک نے ایک علاقائی کلیئرنگ ہاؤس کے ذریعے کی رقم کی ادائیگی یہ کہہ کر روک دی کہ امریکہ کا کہناہے کہ اس سلسلے میں تہران پر بین الاقوامی پابندیوں کا اطلاق ہوتا ہے۔

ایران سے بڑی مقدار میں تیل خریدنے والی بھارتی کمپنیوں نے اس کے بعد جرمنی میں واقع یورپی ایرانی تجارتی بینک کے ذریعے تہران کو ادائیگیاں شروع کردی تھیں۔

رواں ہفتے اس متبادل نظام میں بھی رکاوٹ پیش آگئی کیونکہ امریکہ کا خیال ہے کہ یہ بینک ایران کے متنازع جوہری پروگرام میں ملوث ایرانی کمپنیوں کو بھی معاونت فراہم کرتا ہے ۔

بھارت ایک بار پھر تہران سے گفت وشنید کررہاہے تاکہ ادائیگیوں کے لیے بین الاقوامی پابندیوں کو متاثر کیے بغیر کوئی اور راستہ تلاش کیا جاسکے۔

بھارتی آئل انڈسٹری کے اتحاد کے ایک سابق مشیر وی راکھورامن کا کہناہے کہ ایران سے درآمد کیا جانے والا خام تیل بھارت کے لیے بہت اہم ہے۔

ان کا کہناتھا کہ ہم اپنی تیل کی درآمدات کا 15 فی صد خام تیل ایران سے حاصل کرتے ہیں۔ اور یہ ہماری درآمد کا ایک معقول حصہ ہے۔ چنانچہ اگلے تین سے چھ ماہ بھارت کے مشکل ہوسکتے ہیں۔

بھارتی عہدے داروں کا کہناہے کہ وہ اب ایران کو جاپانی ین کے ذریعے ادائیگیاں کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ ان دنوں ٹوکیو کے دورے پر گئے ،بھارتی سیکرٹری خارجہ نیروپاما کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں جاپانی عہدے داروں سے بات چیت کریں گے۔

توانائی کے ماہرین کا یہ بھی کہناہے کہ بھارت کو متبادل ذرائع تلاش کرنا ہوں گے۔ لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کے بعض تیل پیدا کرنے والے ممالک، مثلاً لیبیا میں جاری سیاسی بے چینی کے باعث ممکن ہے کہ ایسا کرنا آسان نہ ہو ۔

راگھورامن کہتے ہیں کہ دوسرے ممالک سے تیل برآمد کرنا بھارت کے لیے زیادہ مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نئی دہلی کے تہران کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں اور بھارت یقینی طورپر ایران سے کچھ برآمدات جاری رکھنا چاہے گا۔

ایران بھارت کو خام تیل فراہم کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے اور ان برآمدات کی سالانہ مالیت تقریباً 12 ارب ڈالرہے ۔ پچھلے ہفتے بھارتی حکومت نے کہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کی تعمیل کرتے ہوئے ایسی تمام چیزوں اور ٹیکنالوجی کی تجارت بند کررہاہے جن سے تہران کو ان کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں مدد مل سکتی ہو۔

XS
SM
MD
LG