رسائی کے لنکس

برہان وانی کی برسی: بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہڑتال


بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے عسکری کمانڈر برہان مظفر وانی کی تیسری برسی کے موقع پر وادی میں مکمل ہڑتال اور معمولات زندگی متاثر رہے، مختلف علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کا گشت بھی جاری رہا۔

برہان وانی کی برسی کے موقع پر مسلم اکثریتی وادی کشمیر کے جنوبی اضلاع میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کر دی گئیں، جبکہ کشمیر میں ریل سروس بھی معطل رہی۔

برہان وانی کی برسی کے موقع پر کشمیر میں واقع ہندووں کے مذہبی مقام امرناتھ گپھا کے لیے یاتریوں کی سرمائی دارلحکومت جموں سے روانگی بھی روک دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق حریت پسند کشمیریوں کے اتحاد 'مشترکہ مزاحمتی قیادت' نے برہان وانی کی برسی پر ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے۔ لہذٰا، امن و امان کے پیش نظر جموں سے ہندو یاتریوں کو وادی کی طرف سفر کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

ریاست کے پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برہان وانی کی برسی پر امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے اقدامات کر لیے گئے ہیں۔

برہان وانی کون تھا؟

آٹھ جولائی 2016ء کو جنوبی ضلع اننت ناگ میں حریت پسند کمانڈر برہان وانی کی فوج کے ساتھ مبینہ جھڑپ میں ہلاکت کے بعد وادی میں بڑے پیمانے پر ہنگامے پھوٹ پڑے تھے، جن میں چھ ماہ کے دوران 80 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بائیس سالہ برہان وانی بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی سب سے بڑی مقامی عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر تھے، جو سوشل میڈیا پر خاصے سرگرم ہونے کی وجہ سے کشمیری نوجوان نسل میں مقبول تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وادی کشمیر میں 28 سال سے جاری مزاحمتی تحریک کو ایک نئی قوت ملی تھی۔ بعض ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ برہان وانی اپنی زندگی میں بھارت کے لیے اتنا خطرہ نہیں تھا جتنا وہ مارے جانے کے بعد بن چکا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بڑی تعداد میں کشمیری نوجوان مزاحمتی تحریک میں سرگرم ہو گئے ہیں۔ تاہم، ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے بقول، عسکری تنظیموں میں مقامی نوجوانوں کی بھرتی میں نمایاں کمی آئی ہے۔

گورنر کا مزید کہنا تھا کہ ایک سال قبل جب وہ وادی میں آئے تو اس وقت یہاں سیاسی پارہ عروج پر تھا۔ تاہم، اب حالات مختلف ہیں۔ علیحدگی پسند قیادت بات چیت پر آمادہ ہے اور تشدد کے واقعات میں بھی کمی آئی ہے۔

حکام کے مطابق، عسکریت پسندوں کے خلاف شروع کیے گئے آپریشن 'آل آؤٹ' میں 2017ء میں 207، 2018ء میں 260 جبکہ رواں سال 130 مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے، جبکہ ان کارروائیوں کے دوران 25 فوجیوں سمیت 162 شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے مطابق، اس عرصے کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی کل تعداد 1689 ہے جن میں 742 مشتبہ عسکریت پسند، 491 فوجی اور دیگر سیکورٹی اہلکار جبکہ 456 عام شہری شامل ہیں۔

کشمیر کی صورت حال پر نگاہ رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومتی دعووں کے برعکس حالیہ ہفتوں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، عسکریت پسندوں کی طرف سے ضلع پلواما میں کیا جانے والا حملہ ایک بڑی مثال ہے، جس میں ریزرو فورس کے 49 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

گزشتہ ماہ اننت ناگ میں ایک عسکریت پسند نے خود کش حملہ کر کے ایک پولیس افسر سمیت چھ اہلکاروں کو ہلاک کیا تھا۔

کیا داعش بھی کشمیر میں جڑیں مضبوط کر رہی ہے؟

گزشتہ تین برس کے دوران القاعدہ، دولت اسلامیہ یا داعش جیسی غیر ملکی عسکری تنظیمیں بھی مقامی نوجوانوں میں اپنا اثر و رسوخ پیدا کر رہی ہیں۔ حکام کشمیر میں ان تنظیموں کے وجود سے انکار کر رہے ہیں۔

کشمیر کی آزادی کے لیے سرگرم تحریکوں کے قائدین کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک بھارتی تسلط سے آزادی کے لیے ہے، ان کا کوئی اور بین الاقوامی ایجنڈا نہیں ہے۔ لہذٰا، داعش یا دیگر تنظیموں کی مداخلت کو کشمیری عوام قبول نہیں کریں گے۔

'برہان وانی کی ہلاکت کا غصہ کم نہیں ہوا'

تجزیہ کار پروفیسر ڈاکٹر شیخ شوکت حسین کہتے ہیں کہ کشمیری نوجوانوں میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والے غم و غصے میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ صورتحال میں تبدیلی نہیں آئی۔ البتہ، متحرک عسکری کمانڈروں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود کشمیری نوجوان مزاحمتی تحریکوں کا حصہ بن رہے ہیں۔

شیخ شوکت حسین کہتے ہیں کہ یہ بھی المیہ ہے کہ کشمیر میں حالات اتنے کشیدہ ہو جانے کے باوجود عالمی قوتوں نے اس مسئلے کے حل کی جانب توجہ نہیں دی۔

حریت رہنما کی مذاکرات کی دعوت

نریندر مودی کی حالیہ بھارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد کشمیری رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھارتی حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

میر واعظ عمر فاروق کے اس بیان کو ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک نے خوش آئند قرار دیا تھا۔ تاہم، نئی دہلی کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  • 16x9 Image

    یوسف جمیل

    یوسف جمیل 2002 میں وائس آف امریکہ سے وابستہ ہونے سے قبل بھارت میں بی بی سی اور کئی دوسرے بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نامہ نگار کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ انہیں ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں اب تک تقریباً 20 مقامی، قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا جاچکا ہے جن میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی طرف سے 1996 میں دیا گیا انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG