رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کلبھوشن کو رہا کر کے بھارت واپس بھیجے: ایس جے شنکر


مبینہ بھارتی جاسوسی کلبھوشن یادھو کی اسلام آباد دفتر خارجہ میں اپنی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات۔ 25 دسمبر 2017

عالمی عدالت انصاف کی جانب سے مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادھو کی سزائے موت پر نظر ثانی کے فیصلے کے ایک روز بعد بھارت نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ کلبھوشن کو رہا کرے اور بھارت واپس کرے۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بھارت ان کو واپس لانے کی اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

انہوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں الگ الگ بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کلبھوشن سے مراسلت، قونصلر رسائی، جیل میں ملاقات اور قانونی امداد فراہم کرنے کے حق سے بھارت کو محروم کیا۔

ان کے مطابق ”کلبھوشن بے قصور ہیں اور قانونی نمائندگی اور طے شدہ عمل کے بغیر ان کا جبریہ اعتراف اس حقیقت کو بدل نہیں سکتا“۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ ”عالمی عدالت انصاف سے جو ریلیز جاری ہوئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ فیصلہ حتمی ہے، اس کی پابندی کرنی ہو گی اور اس کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہو گی۔

کلبھوشن کے بارے میں پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں۔ انہیں جاسوسی کے الزام میں بغیر ویزا، جعلی نام اور اصلی پاسپورٹ کے ساتھ ہکڑا گیا تھا۔ انہوں نے جاسوسی کا اعتراف کیا اور ملکی قوانین کے تحت فوجی عدالت میں کارروائی چلی، جس میں ان کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ آیا۔

پاکستان کے مطابق انہیں ضروری قانونی امداد فراہم کی گئی۔ عالمی عدالت کے فیصلے پر پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان خود فیصلہ کرے گا کہ اسے کب اور کیا کرنا ہے۔

نئی دہلی کے سیاسی تجزیہ کاروں نے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس پر عمل کیا جائے گا۔

ایک سینئر تجزیہ کار سدھارتھ ورداراجن کے مطابق دونوں ملکوں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں اور اسے حل کرنے کی کوشش کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح یادھو کو گرفتار کیا گیا اور اعترافی ویڈیو پیش کی گئی۔ اس سے ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی فوج دنیا کو یہ پیغام دینا چاہ رہی تھی کہ پاکستان پر دہشت گرد گروپوں کو پناہ دینے کا الزام لگتا ہے لیکن آپ صرف ہم پر یہ الزام نہیں لگا سکتے، بھارت بھی یہی کر رہا ہے۔

سدھارتھ ورداراجن کہتے ہیں کہ ”انہیں لگتا ہے کہ اسی حکمت عملی کے تحت انہیں پکڑا گیا“۔

لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب پاکستان کو چاہیے کہ وہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو نافذ کرے اور سنجیدگی سے نافذ کرے۔

ایک دوسرے تجزیہ کار آلوک موہن نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ اب بھی دونوں ملک مذاکرات کی میز پر آئیں گے حالانکہ پاکستان ایک عرصے سے اس کا مطالبہ کر رہا ہے۔

انہوں نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو انسانی نقطہ نظر سے دیکھنے پر زور دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ نہ کسی کی جیت ہے نہ کسی کی ہار۔ دونوں ملکوں کو چاہیے کہ وہ بات چیت کا راستہ ختیار کر کے باہمی مسائل کو حل کریں۔

ایک معروف قانون دان اور NALSAR لاء یونیورسٹی حیدرآباد کے وائس چانسلر پروفیسر فیضان مصطفیٰ کے خیال میں جس طرح پاکستان نے بھارت کے لیے فضائی حدود کھولی ہیں اسی طرح اس معاملے میں بھی ”اسے بڑا دل دکھانا چاہیے“۔

سٹریٹجک اسٹڈیز پروگرام اور او آر ایف کی سابق لیگل ایڈوائزر آرشی تیرکی کہتی ہیں کہ عالمی عدالت انصاف نے یہ پاکستان پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ کس طرح کلبھوشن یادھو کے فیصلے پر نظرثانی کرتا ہے۔ یہ انڈیا کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ پاکستان اسے اپنے لیگل سسٹم کے حساب سے دیکھے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک قونصلر رسائی ملنے کا معاملہ ہے تو اس میں ہم یادھو کے لیے وکیل کا بندوبست کر سکتے ہیں اور عدالت میں اس کا ڈیفنس پیش کر سکتے ہیں۔ انڈیا پہلے ہی یہ کہہ چکا ہے کہ پاکستان کی ملٹری کورٹ میں فیئر ٹرائل نہیں مل سکتا، کیونکہ اس میں سارے فوجی افسر ہوتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فیئر ٹرائل کے لیے انڈیا کیسے آگے بڑھے گا۔

پاکستان کی جانب سے عدم تعاون کی صورت میں ان کا کہنا تھا کہ اس پر انڈیا اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں جا سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG