رسائی کے لنکس

logo-print

کلبھوشن کا فیصلہ پاکستان خود کرے گا: شاہ محمود


عالمی عدالتِ انصاف، ہیگ

کلبھوشن کیس میں عالمی عدالت کے فیصلے پر پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ ’’آج کا دن بھارت کیلئے ایک اور 27 فروری ثابت ہوا۔ آج بھی بھارت کو کلبھوشن کیس کی شکل میں بڑا سرپرائز مل گیا ہے۔‘‘

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ’’عالمی عدالت انصاف نے مقدمے پر نظر ثانی اور دوبارہ دیکھنے کا کہا ہے۔ پاکستان خود فیصلہ کرے گا کہ کب اور کیا کرنا ہے‘‘۔

پاکستان کے نجی چینل ’اے آر وائی نیوز‘ پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر، میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ اٹارنی جنرل اور ان کی ٹیم نے زبردست کام کیا۔ اللہ کا بہت شکر ہے کہ پاکستان کی عوام، عدالتی نظام کو سرخرو کیا۔‘‘

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ’’بھارت نے اپنی درخواست میں پانچ نقطے اٹھائے تھے۔ بھارت کا مؤقف تھا کہ سزا غیر قانونی قرار دی جائے۔ بھارت کا مؤقف تھا فوجی عدالت کی سزا ختم کی جائے۔ بھارت کا تیسرا مطالبہ تھا کلبھوشن کی سزا ختم کرکے رہا کیا جائے۔ اس کے ساتھ ملٹری کورٹ کی سزا ختم کرکے سول کورٹ میں مقدمہ چلایا جائے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’عالمی عدالت نے نظرثانی کا معاملہ پاکستان کے عدالتی نظام پر چھوڑ دیا۔ عالمی عدالت کا نظرثانی کا حکم پاکستان کے قانونی نظام میں پہلے ہی لاگو ہے۔ بھارت کی فوجی عدالت کی سزا غیر قانونی قرار دینےکی استدعا رد ہوئی ہے‘‘۔

کلبھوشن کی رحم کی اپیل کے بارے میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ’’رحم کی اپیل آرمی چیف کے پاس آئی ہوئی ہے۔ آرمی چیف نے کلبھوشن کی رحم کی اپیل پر کہا کہ قانون پر عمل ہونا چاہیے۔ قانون کے مطابق حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل ہوگا۔‘‘

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی فیصلے کے بعد اسلام آباد میں دفتر خارجہ میں ایک نیوز کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف نے مقدمے پر نظر ثانی اور دوبارہ دیکھنے کا کہا ہے۔ پاکستان خود فیصلہ کرے گا کہ کب اور کیا کرنا ہے۔

کلبھوشن یادیو کے پاس آرمی چیف اور صدر مملکت کے پاس اپیل کا حق ہے۔ فوجی عدالت نے جو فیصلہ کیا، اس پر کلبھوشن ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ بھی جا سکتے تھے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ’’بھارت نے استدعا کی تھی کہ فوجی عدالت کے فیصلے کو ختم کیا جائے۔ عالمی عدالت انصاف نے اسے ختم نہیں کیا۔ حاضر سروس آفیسر، بغیر ویزہ، جعلی نام اور اصلی پاسپورٹ کیساتھ پکڑا جائے تو فوجی عدالت میں ہی مقدمہ چلے گا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’بھارت کا ’آرمی ایکٹ‘ بھی یہی کہتا ہے جو پاکستان کا آرمی ایکٹ کہتا ہے۔ پاکستان ذمہ دار ملک ہے۔ عالمی عدالت کا پہلے بھی احترام کیا۔ اب بھی قانون کا احترام کریں گے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG