رسائی کے لنکس

logo-print

جلا وطن تبتی باشندوں کا جموں و  کشمیر کی تقسیم کا خیرمقدم


لداخ سے بھارت کی لوک سبھا کے رکن جم یانگ سرینگ، فائل فوٹو

ریاست جموں و کشمیر کو یونین کے تحت دو علیحدہ علاقوں یعنی کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرنے کے بھارتی حکومت کے فیصلے کا لداخ اور اس علاقے میں جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے تبت کے باشندوں نے گرم جوشی سے خیر مقدم کیا ہے۔

وائس آف امریکہ کی تبتی سروس کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں لداخ سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن جم یانگ سرینگ نے بتایا کہ یونین کے تحت علاقہ بننے کے فیصلے سے لداخ میں بہت ترقیاتی کام ہوں گے اور علاقے کی تعلیمی ضروریات پوری ہونے کے ساتھ ساتھ منفرد مقامی ثقافت اور زبان کا تحفظ بھی ہو سکے گا۔

لداخ سے لوک سبھا کے رکن جم یانگ نے پارلیمنٹ میں اپنی تقریر میں وزیر اعظم مودی کے فیصلے کی خوبیوں کا ذکر کیا۔ ان کی تقریر کو دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے دیکھا اور بھارتی نیوز میڈیا میں اس کی بڑے پیمانے پر اس کی کوریج کی گئی۔

وزیر اعظم مودی نے بھی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جم یانگ کی تقریر کو سراہا۔

جم یانگ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کا لداخ کے عوام گزشتہ 71 سال سے انتظار کر رہے تھے۔ ہمیں خوشی ہے کہ نریندر مودی نے ہماری خوابوں کو پورا کر دیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ لداخ اور تبت کی ثقافت، زبان اور مذہب ایک ہی ہے، اس لیے اس فیصلے سے تبت کے باشندوں کی شناخت اور زبان کو محفوظ کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ مجھے ذاتی طور پر تبت کے جلاوطن باشندوں کے لیے بہت سے تحفظات ہیں۔ میں مرکزی حکومت کی جانب سے تبتیوں کی بحالی کے ایکٹ پر تیزی سے عمل درآمد کے لیے جو کچھ ممکن ہوا کروں گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG