رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت میں کرتار پور صاحب راہداری کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا


بھارت نے سکھ یاتریوں کے لیے باضابطہ طور پر کرتارپور صاحب راہداری کو تعمیر کرنے کے لیے سنا بنیاد رکھ دیا ہے۔

بھارت کے نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو نے پیر کو بھارتی پنجاب کے علاقے ڈیرہ بابا نانک میں ایک تقرتب کے دوران کرتارپور صاحب راہداری کا سنگِ بنیاد رکھا۔

بھارت میں یہ تقریب بھارت اور پاکستان سرحد کے نزدیک گورداس پور ضلع کے مان گاؤں میں منعقد ہوئی۔

تقریب میں بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ، ریاستی گورنر اور دیگر وزراء بھی موجود تھے۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کرتار پورہ راہداری بنانے کے لیے 28 نومبر کو سنگِ بنیاد رکھیں گے۔

بھارت کے نائب صد وینکیا نائڈو نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اس راہداری سے امن قائم ہوگا اور عوام کی خوشحالی کا راستہ ہموار ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے ایک چھوٹا سا قدم اٹھایا ہے توقع ہے کہ اس سے ہم پرامن اور دوستانہ زندگی کا ہدف حاصل کریں گے۔

مرکزی وزیر نتن گٹکری نے کہا کہ راہداری کی تعمیر کا کام چار ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔

اس راہداری کی تعمیر کا فیصلہ 22 نومبر کو مرکزی کابینہ کے ایک اجلاس میں کیا گیا تھا۔

راہداری پر تمام قسم کی سہولتیں موجود ہوں گی۔ یہاں تک کہ ویزا اور کسٹم کی سہولت بھی ہوگی۔

خیال رہے کہ سکھ یاتریوں کے لیے اس راہداری سے پاکستان کی سرحد کے اندر واقع تاریخی دربار صاحب تک رسائی آسان ہو جائے گی۔

سکھ یاتریوں کے لیے دربار صاحب کیوں اہم ہے؟

سکھ مت کے بانی گرو نانک دیو نے اس مقام پر اپنی زندگی کے آخری 18 سال گزارے تھے۔ اس لیے سکھ برادری کے لیے یہ مقام مذہبی اہمیت کا حامل ہے۔

پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدہ تعلقات کی وجہ سے یہ راہدری دہائیوں سے بند پڑی ہے۔

رواں سال اگست میں پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجودہ نے کرتارپور باڈر کھولنے کی بات شروع کی تھی۔ جس کے بعد پاکستان نے اس راہدری کی تعمیر کے لیے 28 نومبر کو سنگ بنیاد رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کو تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

تاہم سشما سوراج نے اسمبلی انتخابات میں اپنی مصروفیت کے سبب اس تقریب میں شرکت سے انکار کر دیا البتہ انھوں نے کہا کہ دو وزرا ہرسمرت کور اور ہردیپ سنگھ پوری اس تقریب میں شرکت کریں گے۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے بھی پاکستان جانے سے معذرت کر لی ہے لیکن ان کی حکومت کے ایک وزیر نوجوت سنگھ سدھو اس میں شریک ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG