رسائی کے لنکس

logo-print

مدرسہ اسلامیہ کے امتحان میں ہندو لڑکی کی امتیازی کامیابی


مدرسہ اسلامیہ کے امتحان میں ہندو لڑکی کی امتیازی کامیابی

سالہا سال سے اسلامی مدارس کو دہشت گردی کے ساتھ نتھی کیا جا رہا ہے اور بہار کے مدارس کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ کہا جاتا رہا ہے۔ لیکن اس درمیان مدرسہ اسلامیہ دارالعلوم سیوان کی ہندو طالبہ نشا کماری نے بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے فوقانیہ امتحان میں سب سے زیادہ نمبر لے کر پوری ریاست میں نہ صرف امتیازی پوزیشن حاصل کر کے سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے بلکہ اسے ایک خوش آئند واقعہ بھی کہا جا رہا ہے۔ کیونکہ مدارس کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے سبب ان پر مسلسل انگشت نمائی ہوتی رہی ہے۔ لیکن اب جبکہ مدرسے سے ایک ہندو لڑکی نے ٹاپ کیا ہے تو اس جانب لوگوں کا مثبت رویہ سامنے آیا ہے۔

15 سالہ نشا کماری راجندر بھگت کی بیٹی ہے۔ اس نے نہ صرف اردو میں کامیابی حاصل کی ہے بلکہ اسے عربی اور فارسی مضامین میں بھی اسے نمایاں پوزیشن حاصل ہوئی ہے۔ اس کے والد راجندر بھگت کہتے ہیں کہ انہیں مدارس کا ڈسپلن پسند ہے، کیونکہ بقول ان کے اب سرکاری اسکولوں میں تعلیم صرف نام کی رہ گئی ہے۔

نشا کماری کو خود بھی اردو سے بہت محبت ہے اور وہ کہتی ہے کہ میں اردو اخبار اور کتابیں بہت شوق سے پڑھتی ہوں۔ اس نے کہا کہ وہ مزید تعلیم بھی انہیں مضامین میں حاصل کرے گی۔

XS
SM
MD
LG