رسائی کے لنکس

بھارت کے سیٹلائٹ شکن میزائل تجربے سے خلا میں چار سو ٹکڑوں کا ملبہ موجود، ناسا


فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ کے خلائی پروگرام کے ادارے ناسا نے بھارت کی جانب سے سیٹلائٹ شکن یا اینٹی سیٹلائٹ میزائل کے تجربے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے خوفناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ناقابل قبول ہے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ تباہ کیے جانے والے سیٹلائٹ کے لگ بھگ چار سو ٹکڑے خلا میں موجود ہیں جو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اور خلابازوں کے لیے ایک نیا خطرہ ہیں۔

ناسا کے ایک اعلیٰ عہدے دار جم برائنڈسٹائن نے کہا ہے کہ اس تجربے کے بعد خلائی اسٹیشن اور خلانوردوں کو لاحق خطرات میں 44 فیصد کا اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ چیز انتہائی خوفناک اور ناقابل قبول ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے پانچ روز قبل یہ اعلان کیا تھا کہ بھارت نے سیٹلائٹ شکن میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ خلائی سپرپاور کے گروپ میں شامل ہو گیا ہے۔ اس سے قبل یہ کامیابی امریکہ، روس اور چین نے حاصل کی تھی۔

ناسا کے عہدے دار نے کہا کہ اس تجربے کے نتیجے میں تباہ ہونے والے سیٹلائٹ کے چار سو ٹکڑے خلا میں بکھر گئے ہیں لیکن ابھی صرف 60 ٹکڑوں کا ہی پتا لگایا جا سکا ہے۔ ان میں سے 24 ٹکڑے خلائی اسٹیشن کے دور افتادہ پوائنٹ سے اوپر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹکڑے دس سینٹی میٹر سائز کے ہیں۔ اس خلائی صورت حال کے بارے میں ہمیں ہر گھنٹے کچھ نہ کچھ نیا معلوم ہو رہا ہے۔ جب سے تجربہ ہوا ہے خطرہ بڑھ گیا ہے۔

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ خلا نورد اور خلائی اسٹیشن محفوظ ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو ہم ان ٹکڑوں کو ناکارہ کر دیں گے۔ ان کے مطابق مستقبل میں بھی اس قسم کی سرگرمیاں انسانی خلائی مشن کے حق میں نہیں ہوں گی۔

ایک دفاعی تجزیہ کار مکیش کوشک نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ناسا کا یہ بیان بھارتی وزارت خارجہ کے بیان سے مختلف ہے۔ تاہم اس کی سائنسی صداقت کو جانچنا ہو گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ وزارت خارجہ نے کوئی غلط بیان نہیں دیا ہو گا۔ ان کے مطابق وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تجربہ ماحولیات اور خلا کے نقطہ نظر سے محفوظ ہے۔ کیونکہ وہ نچلے زمینی مدار میں کیا گیا ہے اور اس سے بہت کم ملبہ پیدا ہوا ہے۔ وہ ملبہ بھی چند ہفتوں میں زائل ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ بھارت کے تجربے کے بعد ناسا نے ایسا بیان پہلی بار دیا ہے۔

بھارت کی جانب سے اس بیان پر تا حال کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ البتہ خلائی ادارے ڈی آر ڈی او نے کہا ہے کہ سیٹلائٹ تباہ ہونے کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ملبہ زمین کی کشش ثقل کے باعث نیچے آ جائے گا اور نیچے آتے ہی ختم ہونا شروع ہو جائے گا۔ تاہم اس عمل میں کچھ ہفتے لگ سکتے ہیں۔

بھارت کا کہنا ہے کہ اس نے نچلے زمینی مدار میں تجربہ کیا ہے اور اس سے پیدا ہونے والا ملبہ خلائی اسٹیشن یا سیٹلائٹس سے نہیں ٹکرائے گا۔

  • 16x9 Image

    سہیل انجم

    سہیل انجم نئی دہلی کے ایک سینئر صحافی ہیں۔ وہ 1985 سے میڈیا میں ہیں۔ 2002 سے وائس آف امریکہ سے وابستہ ہیں۔ میڈیا، صحافت اور ادب کے موضوع پر ان کی تقریباً دو درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں سے کئی کتابوں کو ایوارڈز ملے ہیں۔ جب کہ ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں بھارت کی کئی ریاستی حکومتوں کے علاوہ متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں نے بھی انھیں ایوارڈز دیے ہیں۔ وہ بھارت کے صحافیوں کے سب سے بڑے ادارے پریس کلب آف انڈیا کے رکن ہیں۔  

XS
SM
MD
LG