رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کے کئی دیہاتوں میں لڑکیوں کے لیے موبائل فون پر پابندی


مغربی بھارتی ریاست گجرات کے کئی گاؤں کی کونسلوں یا پنچائیتوں نے 18 سال سے کم عمر لڑکیوں پر موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگائی ہے۔

بھارت کے متعدد دیہاتوں میں لڑکیوں کو ڈیجیٹل دنیا کے انقلاب سے خارج کیا جا رہا ہے۔ جہاں لڑکیوں اور غیر شادی شدہ خواتین کے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

مغربی بھارتی ریاست گجرات کے کئی گاؤں کی کونسلوں یا پنچائیتوں نے 18 سال سے کم عمر لڑکیوں پر موبائل فون کے استعمال کرنے پر پابندی لگا دی ہے ۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گجرات میں مہسانا اور بناس کانٹھا ڈسڑکٹ کے چند دیہاتوں میں حالیہ ہفتوں میں یہ پابندی عائد کی گئی ہے کیونکہ، گاؤں کے با اثر مرد حضرات جو کمیونٹی کے فیصلے کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ موبائل فون لڑکیوں کے لیے اچھا نہیں ہے ۔

مہسانا ضلعی کونسل کے سربراہ رنجیت سنگھ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ یہ پابندی ان کے گاؤں کی ان تمام لڑکیوں کے لیے ہے،جو اٹھارہ سال سے کم عمر ہیں اور غیر شادی شدہ خواتین کو بھی موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

بقول ان کے اس مہم میں ان کے ساتھ مزید دیہات شامل ہورہے ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ اگر لڑکیوں کے پاس اپنا موبائل فون ہے تو وہ مطالعے کو مناسب وقت نہیں دیتی ہیں اور وہ اس کی وجہ سے برے حالات سے بھی دوچار ہو سکتی ہیں۔

بقول ان کے بہتر یہ ہی ہے کہ لڑکیوں کو مطالعہ کرنے دیا جائے، اور پھر شادی کر دی جائے اور اس کے بعد وہ اپنا موبائل فون رکھ سکتی ہیں لیکن، جب تک وہ اپنے گھر میں ہیں انھیں ضرورت پڑنے پر صرف اپنے والد کا فون استعمال کرنے کی اجازت ہوگی ۔

مہسانا ضلع میں پابندی کی خلاف ورضی کرنے والوں سے 21سو روپے جرمانہ وصول کیا جائے گا جبکہ مخبری کرنے والے کو انعام سے نوازا جائے گا۔

تاہم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبات اس پابندی سے مستثنی ہوں گی جنھیں مطالعے کے لیے موبائل فون کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔

اس پابندی پر پوری ریاست میں ٹھاکر ذات کے لوگوں کی طرف سے عمل کیا جارہا ہے جبکہ بناس کانٹھا ضلع کے ترقیاتی افسر گورو دیہیا نے کہا کہ ہمارے ڈسٹرکٹ میں بھی غیر رسمی طور پر اسی طرح کی پابندی پر عمل کیا جارہا ہے جہاں یہ پابندی گاؤں کے بزرگ افراد کی طرف سے لگائی گئی ہے۔

شمالی بھارتی ریاست اتر پردیش کی ضلعی کونسل کے ایک رکن نے انٹرنیشنل بزنس ٹائمز کو بتایا کہ لڑکیاں فون کی وجہ سے بگڑ رہی ہیں۔

اسی طرح گجرات میں سورج نامی دیہات میں بھی لڑکیوں کے موبائل فون رکھنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ جہاں ضلعی کونسل کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر عورتوں کی رسوائی کا سبب بن رہی ہے ۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب کسی بھارتی ریاست میں لڑکیوں کی طرف سے موبائل فون کے استعمال کرنے پر پابندی لگائی گئی ہے بلکہ اس سے قبل 2012 میں ریاست مشرقی بہار میں بھی تمام عورتوں کے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی عائد لگائی گئی تھی۔ جس میں ضلعی کونسل کی طرف سے موبائل فون کو معاشرے میں پھیلنے والی تمام برائیوں کی جڑ قرار دیا گیا تھا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گجرات میں لڑکیوں کے موبائل فون پر پابندی کی خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب گجرات سے تعلق رکھنے والے بھارتی وزیر اعظم نریندر سنگھ مودی ڈیجیٹل انقلاب یعنی ڈیجیٹل بھارت کے لیے اقدامات کررہے ہیں جس کا مقصد دیہی علاقوں کو تیز رفتار انٹر نیٹ نیٹ ورک کے ساتھ مربوط کرنا ہے ۔

بھارت موبائل فون کے لیے دنیا کی دوسری بڑی مارکیٹ ہے ۔جہاں ایک ارب سے زیادہ موبائل فون کے صارفین ہیں لیکن یہاں نمایاں طور پر مردوں کی طرف سے اس ٹیکنالوجی کا استعمال عام ہے۔ دریں اثناء بھارتی دیہی علاقوں میں تقریبا 88 فیصد مرد موبائل فون کے مالک ہیں اور ان کے مقابلے میں صرف 12 فیصد عورتیں موبائل فون رکھتی ہیں ۔

XS
SM
MD
LG