رسائی کے لنکس

سری نگر، دہلی اور ہریانہ میں بھارتی تحقیقاتی ادارے کے چھاپے


سیکیورٹی اہل کار سری نگر کے ایک کاروباری مرکز میں کشت کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں نے ان پر لگائے گئے الزامات اور این آئی اے کے چھاپوں کو بھارتی حکومت کی طرف سے چلائی جانے والی ایک ایسی مہم کا حصہ قرار دیدیا ہے جس کا مقصد ان کے بقول انہیں اور کشمیریوں کی جائز تحریکِ مزاہمت کو بدنام کرنا ہے۔

یوسف جمیل

بھارت کے قومی تحقیقاتی ادارے نیشنل انوسٹگیشن ایجنسی یا این آئی اے نے سرینگر، دِلی اور بھارتی ریاست ہریانہ کے سونی پت علاقے میں تقریباً دو درجن مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔

جن لوگوں کے گھروں اور دفاتر پر چھاپے مارے گئے ہیں ان میں استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے کشمیری جماعتوں کے دوسری سطح کے لیڈر اور کچھ تاجر بھی شامل ہیں۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کی یہ چھاپے، نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں تشدد اور دہشت کو بڑھاوا دینے اور بدامنی کو جاری رکھنے کےلئے پاکستان اور دوسرے ممالک سے غیرقانونی چینلز کے ذریعے حاصل کی جانے والی رقومات کے بارے میں این آئی اے کی طرف سے حال ہی میں درج کئے گئے ایک مقدمے کے سلسلے میں مارے گئے ہیں ۔

ان کے مطابق تاحال کم سے کم ڈیڑھ کروڑ روپے کی نقدی، لیپ ٹاپ، پین ڈرائیو اور کچھ دستا ویزات، جن میں عسکری تنظیموں لشکرِ طیبہ اور حزب المجاہدین کے لیٹر پیڈ شامل ہیں، ضبط کئے گئے ہیں۔ تاہم این آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل شرد کمار نے کہا ہے کہ چونکہ چھاپے ابھی جاری ہیں اور کاررائی نامکمل ہے، اس موقعے پر تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

این آئی اے نے اس سے پہلے تین کشمیری آزادی پسند لیڈروں نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار اور غازی جاوید بابا کونئی دہلی طلب کرکے ان سے پوچھ گچھ کی تھی۔ ان لیڈروں کو حال ہی میں ایک بھارتی نجی ٹیلی وژن چینل پر ایک اسٹنگ آپریشن کے دوران یہ اعتراف کرتے دِکھایا گیا تھا کہ انہیں نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں پُرتشدد کارروائیاں کرانے اور شورش کو طول دینے کے لئے پاکستان سے بھاری رقومات مل رہی ہیں۔

تاہم ان لیڈروں نے اسٹنگ آپریشن کو جعلی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھاکہ ان کے انٹرویوز کو توڑ مروڑ کر اور اصل سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں نے ان پر لگائے گئے الزامات اور این آئی اے کے چھاپوں کو بھارتی حکومت کی طرف سے چلائی جانے والی ایک ایسی مہم کا حصہ قرار دیدیا ہے جس کا مقصد ان کے بقول انہیں اور کشمیریوں کی جائز تحریکِ مزاہمت کو بدنام کرنا ہے۔

اِدھر سنیچر کو عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں دو بھارتی فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ یہ حملہ سرینگر-جموں شاہراہ پر لور منڈا قاضی گنڈ کے مقام پر سرینگر آنے والے ایک فوجی قافلے پر کیا گیا جس کے بعد بھارتی فوج نے ایک وسیع علاقے کو گھیرے میں لیکر حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ہے۔ زخمیوں کو سرینگر کے ایک فوجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

حزب المجاہدین نے حملہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے چار فوجیوں کو ہلاک اور سات کو زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایک اور خبر کے مطابق بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بِپن راوت ایک مرتبہ پھر شورش زدہ وادئ کشمیر کے دورے پر آگئے ہیں۔ سنیچر کو انہوں نے حد بندی لائن پر تعینات بھارتی فوج کے افسروں اور جوانوں سے ملاقات کرکے آپریشنل اور انتظامی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ یہ جنرل راوت کا نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کا ایک ماہ کے دوراں کیا گیا چوتھا دورہ ہے ۔

بھارتی ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ فوج دوسرے حفاظتی دستوں کے ساتھ ملکر علاقے میں عسکریت پسندوں اور ان کے مددگاروں کے خلاف ایک بڑا اپریشن شروع کرنے والی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG