رسائی کے لنکس

پاکستان کے لیے امریکی سیکیورٹی امداد کی معطلی پر بھارت کا ملا جلا رد عمل


فائل فوٹو

انجنا پسریچا

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کی تقریباً ایک ارب 90 کروڑ ڈالر کی سیکیورٹی امداد معطل کیے جانے کے اعلان کو بھارت میں پرامید نظروں سے دیکھا جا رہا ہے لیکن نئی دہلی میں کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ اس کے نتیجے میں پاکستان، بھارتی کشمیر میں فعال عسکری گروپس مثلاً حزب المجاہدین کو محفوظ پناہ گاہوں کی فراہمی روک دے گا۔

واشنگٹن کی جانب سے پاکستان کے لیے نئے سخت طرز عمل پر بھارت کا رد عمل ایک جونیئر وز یر جٹندرا سنگھ کے مختصر بیان کی شکل میں سامنے آیا کہ یہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے کردار سے متعلق ہمارے موقف کی واضح تائید ہے۔

نئی دہلی میں قائم ایک تھنک ٹینک ویوکیندرا انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر اروند گپتا کہتے ہیں کہ یہ اندازاً لگانا بہت قبل از وقت ہے کہ صدر ٹرمپ کیا کر سکیں گے۔

بھارت میں بہت سے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ واشنگٹن کا مسئلہ یہ یقینی بنانا ہے کہ اسلام آباد حقانی نیٹ ورکس جیسے گروپس کے خلاف کارروائی کرے جو أفغانستان کو ہدف بناتے ہیں۔ اس بارے میں بھی کچھ قیاس آرائیاں پائی جاتی ہیں کہ واشنگٹن اسلام آباد پر اپنے انحصار کی وجہ سے اس کے خلاف کیا تادیبی اقدامات کرے گا۔

نئی دہلی میں تجزیہ کار دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں کہ آنے والے مہینوں میں کیا ہوتا ہے۔

جیسے جیسے بھارت اور امریکہ ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں، واشنگٹن میں بھارت کے لیے حساسیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور پچھلے سال اگست میں واشنگٹن نے بھارتی کشمیر میں سرگرم عسکری گروپ حزب المجاہدین اور اس کے سربراہ سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔

حال ہی میں بھارت میں نئے امریکی سفیر نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے یہ واضح کر دیا ہے کہ سرحد کے آر پار دہشت گردی یا دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

بھارت میں یہ خدشات بھی پائے جاتے ہیں پاکستان پر امریکی دباؤ میں اضافے سے وہ چین کے زیادہ قریب ہو جائے گا جس سے جنوبی ایشیائی خطے میں بیجنگ کا اثرو رسوخ بڑھ جائے گا۔ یہ ایک ایسی پیش رفت ہے جو بھارت دیکھنا نہیں چاہتا۔

بھارت میں اس بارے میں تشویش پائی جاتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے اسلام آباد کے ساتھ بات آگے بڑھائی جائے۔ جنوبی ایشیا کے لیے نئی امریکہ پالیسی میں وہ اپنے لیے امید کی ایک کرن دیکھتے ہیں۔ دونوں حریف ملکوں کے سیکیورٹی ایڈوائزر کے درمیان دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق دسمبر میں بنکاک میں ایک خفیہ ملاقات ہو چکی ہے جس کا نئی دہلی نے حال ہی میں اعتراف بھی کیا ہے۔

لیکن عہدے داروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ہونے والی کامیابی بہت معمولی ہے۔ نئی دہلی میں قائم ایک تھنک ٹینک اور سیز ریسرچ فاؤنڈیشن کے تجزیہ کار منوج جوشی کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اس تصویر میں آتا ہے تو یقینی طور پر امریکہ کا مسئلہ ہم سے زیادہ ہے اور وہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر نئی دہلی خوش ہے اور جہاں تک بھارت کا تعلق ہے، یہ ہمارے لیے ایک مثبت پہلو ہے۔

پاکستان بھارت کے اس الزام کو مسترد کرتا ہے کہ عسکریت پسند بھارتی کشمیر میں سرحد پار سے حملے کے لیے آتے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارتی کشمیر میں موجود کشمیری اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG