رسائی کے لنکس

پشاور: ریلی سے حافظ سعید کا ٹیلی فونک خطاب


فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز بیانات کے خلاف مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے اتحاد 'دفاع پاکستان کونسل' کے زیر اہتمام اتوار کو پشاور میں ایک ریلی نکالی گئی جس سے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید نے بھی ٹیلی فونک خطاب کیا۔

اس کونسل میں جماعت الدعوۃ بھی شامل ہے جس کے سربراہ کو امریکہ اور بھارت دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔

اس تنظیم کے مقامی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے حافظ سعید کی ریلی میں شرکت کی اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے انھوں نے ٹیلی فون کے ذریعے ریلی کے شرکا سے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں حافظ سعید نے امریکہ اور بھارت کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

ریلی کے شرکا میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک بھی موجود تھے جنہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان کے خلاف امریکہ اور بھارت سمیت مبینہ سازش کرنے والوں کے خلاف آواز اٹھانے پر کونسل کے راہنماؤں کا شکریہ ادا کیا۔

گزشتہ سال کے اوائل میں نظر بند کیے جانے والے حافظ سعید کو نومبر میں عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا جس پر امریکہ اور بھارت کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

اپنی رہائی کے چند دن بعد ہی جماعت الدعوۃ کے سربراہ نے راولپنڈی میں دفاع پاکستان کونسل کے تحت ہونے والی ایک ریلی میں شرکت کی تھی جس پر پاکستان کو ایک بار پھر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

گزشتہ ہفتے ہی حکومت نے حافظ سعید کی فلاحی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف عملی کارروائی کرتے ہوئے اس کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا جب کہ جماعت الدعوۃ سمیت مختلف کالعدم تنظیموں پر عطیات و چندہ جمع کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔

غیر جانبدار حلقے یہ کہتے رہے ہیں کہ حافظ سعید کی کھلے عام ریلیوں میں شرکت سے پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

حافظ سعید کی گرفتاری میں مدد کے لیے امریکہ نے ایک کروڑ ڈالر کے انعام کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔

بھارت اور امریکہ انھیں 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے منصوبہ سازوں میں شمار کرتا ہے لیکن حافظ سعید اسے مسترد کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG