رسائی کے لنکس

logo-print

'پہلے لگا کہ بم گرا ہے لیکن پتا چلا یہ بھارتی جہاز ہے'


(فائل فوٹو)

فروری کی 27 تاریخ کی صبح محمد افضل فضا ميں طياروں کے شور کے باعث جاگے۔ اُنہوں نے اپنی زندگی میں طیاروں کو اتنی نیچے پرواز کرتے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

ایک روز قبل لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی طیاروں کی جانب سے پاکستانی کشمیر میں کارروائی کے بعد کشیدگی عروج پر تھی۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے محمد افضل نے بتايا کہ اُن کے بڑوں نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی جنگ چھڑ چکی ہے۔ اور سب کو چھپ جانے کا مشورہ دیا۔

مقامی ٹی وی سے وابستہ صحافی محمد افضل نے مزيد بتايا کہ بھارتی طياروں کی جانب سے 26 فروری کو بالاکوٹ ميں بم گرائے جانے کے بعد لوگوں ميں شديد خوف و ہراس پھيلا ہوا تھا۔

انہيں خدشہ تھا کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر مزيد مہم جوئی کر سکتا ہے۔ کيونکہ لائن آف کنٹرول پر صورت حال معمول سے ہٹ کر تھی۔ ان کے بقول چند لمحوں بعد کچھ جہاز فضا ميں دھواں چھوڑتے ہوئے نظر آئے اور اس کے بعد ساؤنڈ بيریئر کی گرجدار آواز سنائی دی۔

مقامی لوگوں کو يہ تاثر ملا کہ شاید کوئی بم گرا ہو۔ جس کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

افضل کہتے ہیں کہ "مقامی لوگ سمجھے کہ شاید بھارت نے حملہ کرنے کے بعد بم گرا ديا ہے۔ اچانک ميں نے فضا سے زمين کی جانب تيزی سے بڑھتا ايک آگ کا گولا ديکھا۔ گمان ہوا کہ یہ بم ہے۔ اور اس سے تباہی پھیل جائے گی۔ اس کی گونج سے سارا علاقہ دہل گيا۔ وہ بم نہیں بلکہ بھارت کا جہاز تھا۔"

محمد افضل کے مطابق وہ تیزی سے ملبے کی جگہ پر پہنچے تاکہ اپنے چینل کو بروقت اس خبر سے آگاہ کر سکیں۔ "جب میں وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ایک جہاز گرا ہوا ہے اور اس پر بھارت کا ترنگا بنا ہوا ہے۔ وہاں موجود کچھ لوگوں نے جہاز کے قریب جانے سے روک دیا کہ کہیں جہاز کے ساتھ نصب بم پھٹ ہی نہ جائے۔"

افضل کہتے ہیں کہ خوف کے باعث میں اس جگہ سے کچھ دور چلا گیا لیکن اچانک فائرنگ کی آواز کے ساتھ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگنے لگے۔

مقامی ساجد ڈار ان چند لوگوں ميں سے ايک تھے جنہوں نے سب سے پہلے بھارتی پائلٹ ابھي نندن کو 'ہُوڑاں' کے علاقے ميں گھيرے ميں ليا۔ ان کے بقول ابھی نندن کو پہلے یہ نہیں پتا تھا کہ وہ بھارت میں ہیں یا پاکستان میں۔ اُنہوں نے کچھ لوگوں سے پوچھا کہ یہ پاکستان ہے یا بھارت جس پر اُنہیں بتایا گیا کہ یہ بھارت ہے۔ جس پر ابھی نندن نے 'جے ہند' کا نعرہ لگایا۔

ونگ کمانڈر ابھی نندن (فائل فوٹو)
ونگ کمانڈر ابھی نندن (فائل فوٹو)

لیکن وہاں موجود کچھ لوگ غصے میں آ گئے اور اُنہوں نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانا شروع کر دیے۔ جس پر بھارتی پائلٹ نے حواس باختہ ہو کر اپنا پستول نکالا اور فائرنگ کی۔ اس دوران کچھ لوگ اُن کی جانب لپکے۔ ابھی نندن نے ایک ندی میں کچھ کاغذات بہانے کی کوشش کی لیکن لوگوں نے اُن کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔ اور اسے مارنے لگے۔ بعدازاں سیکیورٹی اہلکار وہاں پہنچ گئے۔ اور بھارتی پائلٹ کو بحفاظت اپنے ساتھ لے گئے۔

توقير چوہدری پاکستان کے زيرِ انتظام کشمير کے 'سمانی سيکٹر' کے رہائشی ہيں جہاں وہ کريانے کی دکان چلاتے ہيں۔ وہ بھی ان افراد ميں شامل تھے جنہوں نے بھارتی پائلٹ کو بروقت گھيرے ميں ليا۔ انہیں گلہ ہے کہ پاکستان نے ابھي ںںدن کی حوالگی ميں جلد بازی سے کام ليا۔

خیال رہے کہ واقعے کے دو روز بعد وزیر اعظم پاکستان کے حکم پر ابھی نندن کو واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارت کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے توقیر نے بتايا کہ بھارتی فوج سے ہمارے بڑے، عورتيں، بچے اور يہاں تک کے مويشی بھی محفوظ نہيں ہيں اور وہ روزانہ کی بنياد پر اشتعال انگيز فائرنگ کرتے ہيں۔

لہذٰا جب ابھی نندن کو بھارت کے حوالے کیا گیا تو ہمیں افسوس ہوا کہ حکومت نے ہمارے جذبات و احساسات کا خیال نہیں کیا۔ جو لوگ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر آباد اُن کا دُکھ درد کوئی نہیں جانتا۔

توقیر کے بقول حکومتِ پاکستان کو ابھی نندن کی حوالگی کے عوض بھارتی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی رہائی کا تقاضا کرنا چاہیے تھا۔ لیکن حکومت نے غیر مشروط طور پر اُسے رہا کر دیا۔

خیال رہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں 14 فروری کو بھارت کی سنٹرول ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے قافلے پر خود کش حملے میں 40 سے زائد جوان ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارت نے اس حملے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کی تھی۔ 26 فروری کو بھارتی طیاروں نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) عبور کر کے پاکستان میں اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے تھے۔ لیکن آزاد ذرائع نے اس کی تصدیق نہیں کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG