رسائی کے لنکس

اسامہ علی کو سرتاج کے سفارشی خط کے بغیر ویزا جاری ہوگا: سشما

  • سہیل انجم

فائل

بھارتی وزیر خارجہ نے یہ اعلان ایک 24 سالہ شخص کی اُس اپیل کے جواب میں کیا ہے کہ وہ ان کے میڈیکل ویزا کے لیے امور خارجہ کے پاکستانی مشیر سرتاج عزیز کے خط کی شرط ہٹا دیں۔ بتایا گیا ہے کہ اسامہ کے لیور میں ٹیومر ہے اور وہ اپنا علاج کرانے کے لیے دہلی آنا چاہتے ہیں

وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ایک 24 سالہ شخص اسامہ علی کو وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کے سفارشی خط کے بغیر ہی میڈیکل ویزا جاری کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ”متنازعہ خط بھارت کا لازمی حصہ ہے اس لیے سرتاج عزیز کے خط کی ضرورت نہیں“۔

انھوں نے یہ اعلان اسامہ کی اِس اپیل کے جواب میں کیا ہے کہ وہ ان کے میڈیکل ویزا کے لیے سرتاج عزیز کے خط کی شرط ہٹا دیں۔ اسامہ کے لیور میں ٹیومر ہے۔ وہ اپنا علاج کرانے کے لیے دہلی آنا چاہتے ہیں۔

سشما سوراج نے 10 جولائی کو ویزا قوانین میں تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”کسی بھی پاکستانی کو میڈیکل ویزا اُسی صورت میں جاری کیا جائے گا جب درخواست کے ساتھ سرتاج عزیز کا خط بھی منسلک ہو“؛ جبکہ اس سے قبل میڈیکل ویزا کے لیے ایسی کوئی شرط نہیں تھی اور بھارت سفارشی خط کے بغیر ویزا جاری کرتا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی ایک تنظیم ’فورم فار سول رائٹس‘ کے صدر سید منصور آغا نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے سشما سوراج کے اعلان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ ”یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ کسی پاکستانی مریض کو بھارت میں علاج کرانے کے لیے آنے کی غرض سے دو جگہ سے ویزا نہ لینا پڑے۔ وہ پاکستان کے کسی بھی ریاست کا ہو یا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا ہو، میڈیکل ویزا دینے میں کوئی امتیاز نہیں کیا جانا چاہیئے۔ اس معاملے کا ایک انسانی پہلو ہے اور ایک تجارتی پہلو بھی ہے۔ یہاں علاج ایک انڈسٹری بھی ہے۔ اسے بھی پھلنا پھولنا چاہیئے اور لوگوں کو فائدہ بھی ہونا چاہیئے“۔

منصور آغا مزید کہتے ہیں کہ ”میرے خیال میں سشما سوراج کی اس بات کا ایک پس منظر بھی ہے۔ وہ ادھر کچھ دنوں سے اپنی وزارت کے معاملات میں تقریباً غیر اہم ہوگئی ہیں۔ نہ تو بھارت چین تنازعہ کے بارے میں ان کا بیان آرہا ہے اور نہ ہی پاکستان کے بارے میں۔ شاید اسی لیے انھوں نے یہ بات کہی ہے تاکہ جن لوگوں نے انھیں نظرانداز کیا ہوا ہے ان کی نظروں میں ان کی اہمیت بڑھ جائے۔ لیکن بہر حال ان کے اس فیصلے کا خیر مقدم ہے کہ جو پاکستان کے زیر انتطام کشمیر سے یہاں آئیں گے اور وہ بہر حال پاکستان کے پاسپورٹ پر آئیں گے، ان کے لیے سفارشی خط کی شرط ہٹا دی ہے“۔

رپورٹوں کے مطابق، اسامہ کے اہل خانہ نے سرتاج عزیز کا خط حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن، وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اسامہ کے والد جاوید ناز خاں نے جو کہ لاوراکوٹ میں ایک وکیل ہیں اور جو پاکستان مسلم لیگ۔ن کے رکن بھی ہیں، دہلی کے اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”جب انھو ںنے سرتاج عزیز کا خط حاصل کرنے کی کوشش کی تو وزارت خارجہ نے کہا کہ سرتاج عزیز کے خط لکھنے کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ ضابطے کے مطابق جنوبی ایشیا ڈیسک کے سکریٹری انچارج کو خط لکھنا ہوتا ہے۔ لیکن، ہمیں معلوم ہوا ہے کہ بھارتی ہائی کمیشن نے سفارشی خط والی بعض درخواستیں مسترد کر دی ہیں“۔

جاوید ناز نے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس یورپ میں علاج کرانے کے پیسے نہیں ہیں۔ بھارت میں علاج سستا ہے اس لیے وہ دہلی آنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ بھارت پاکستان کے زیر اتنظام کشمیر کو اپنا علاقہ قرار دیتے ہوئے اسے ’’پاک مقبوضہ کشمیر‘‘ کہتا ہے؛ جبکہ پاکستان اسے آزاد کشمیر اور نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر کو ’’بھارتی مقبوضہ کشمیر‘‘ کہتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG