رسائی کے لنکس

logo-print

سونیا گاندھی کی بیٹی پرینکا گاندھی کی سیاست میں باضابطہ آمد


پرینکا گاندھی، فائل فوٹو

برسوں کی قیاس آرائی کے بعد بالآخر سونیا گاندھی کی بیٹی اور راہول گاندھی کی بہن پرینکا گاندھی باضابطہ طور پر سیاست میں داخل ہو گئیں ہیں۔ اپریل اور مئی کے پارلیمانی انتخابات سے قبل کانگریس پارٹی کے اس قدم کو سیاسی حلقوں میں دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔

کانگریس صدر راہول گاندھی نے انھیں پارٹی کا جنرل سیکرٹری مقرر کیا ہے اور انھیں مشرقی اترپردیش کی کمان سونپی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کا پارلیمانی حلقہ وارانسی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا مرکز گورکھپور اسی خطے میں آتے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ان دونوں کے لیے چیلنج ثابت ہوں گی۔

قیاس ہے کہ 47 سالہ پرینکا، گاندھی خاندان کے گڑھ رائے بریلی سے الیکشن لڑیں گی جو کہ پہلے اندراگاندھی کا حلقہ انتخاب تھا اور اب سونیا گاندھی کا ہے۔

پرینکا کے تقرر پر کانگریس پارٹی میں ایک نیا جوش آ گیا ہے۔ نئی دہلی میں واقع پارٹی دفتر میں گہما گہمی دیکھی جا رہی ہے اور یوں لگ رہا ہے کہ کانگریس نے کوئی بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ کارکنوں نے وہاں خوشی میں پٹاخے چھوڑے ہیں۔

پارٹی رہنما اور کارکن ایک عرصے سے سیاست میں پرینکا کو لانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ہر الیکشن میں ایسا محسوس ہوتا رہا ہے کہ اس بار وہ سیاست میں باضابطہ طور پر آ جائیں گی۔ لیکن جب وہ نہیں آتیں تو کارکنوں میں مایویس چھا جاتی تھی۔

سینیر پارٹی لیڈر موتی لال وورا کہتے ہیں کہ پرینکا کو جو ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ بہت اہم ہے۔ اس سے نہ صرف مشرقی اترپردیش پر بلکہ دوسرے خطوں پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔

راہول گاندھی نے کہا کہ انھوں نے پرینکا کو صرف دو ماہ کے لیے اترپردیش نہیں بھیجا ہے، بلکہ وہ وہاں مستقل رہیں گی اور کانگریس کے سیاسی نظریے کو پروان چڑھانے کی کوشش کریں گی۔

یاد رہے کہ پرینکا اس سے قبل بھی راہول کے حلقے امیٹھی اور سونیا کے حلقے رائے بریلی میں کام کرتی اور انتخابات کے موقع پر ان کی مدد کرتی رہی ہیں۔

ابھی تین ریاستوں میں کانگریس کی جیت کے موقع پر بھی وہ راہول گاندھی کے قریب رہیں اور انھیں مشورے دیتی رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تین ریاستوں چھتیس گڑھ، راجستھان اور مدھیہ پردیش میں وزرائے اعلیٰ کے انتخاب میں ان کا بھی ہاتھ تھا۔

ایک سینیر صحافی اور تجزیہ کار ونے کمار نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے موقع پر پرینکا کو سیاست میں لانا خاصا دلچسپ ہے۔

انھوں نے اس بات سے انکار کیا کہ چونکہ راہول گاندھی ناکام ہیں اس لیے پرینکا کو لایا گیا ہے۔

ونے کمار نے کہا کہ پرینکا پہلے بھی امیٹھی اور رائے بریلی میں کام کرتی رہی ہیں۔ دونوں بہن بھائیوں میں بڑی اچھی باہمی سمجھ ہے۔ ان کے خیالات میں سیاسی امور میں ہم آہنگی ہے۔ راہول گاندھی نے ایک اور جوان رہنما جیوتر آدتیہ سندھیا کو بھی یو پی میں بھیجا ہے جس سے یہ قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ راہول پارٹی میں نئے چہروں کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ونے کمار نے مزید کہا کہ پرینکا گاندھی کو اندرا گاندھی کا فطری جانشین تصور کیا جاتا ہے اور ان کے انداز و اطوار بھی اندرا گاندھی کی مانند ہیں۔ اس لیے اس موقع پر سیاست میں انہیں اتارنا کانگریس کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن پرینکا کو خاصی محنت کرنی پڑے گی۔

ایک اور تجزیہ کار اُمیش رگھوونشی کہتے ہیں کہ پرینکا کو سیاست میں لانا کانگریس کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے تقرر پر کارکن خوشیاں منا رہے ہیں۔ بہت سے کارکن یہ کہتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ اندار گاندھی کی واپسی ہوئی ہے۔

سب سے زیادہ رد عمل بی جے پی کے رہنماؤں اور وزرا کی جانب سے ظاہر کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے اسے خاندانی سیاست قرار دے کر اس کا مذاق اڑایا ہے۔

بی جے پی ترجمان سمبت پاترا کہتے ہیں کہ یہ بی جے پی کے لیے کوئی چیلنج نہیں ہے۔ یہ خاندانی سیاست ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ راہول گاندھی فیل ہیں۔

اتر پردیش کے نائب وزیر اعلی دنیش شرما کے مطابق اس سے نہ یو پی کی سیاست پر کوئی اثر پڑے گا نہ مجموعی سیاست پر۔

خیال رہے کہ نہ صرف کانگریس کارکن بلکہ دوسرے لوگ بھی پرینکا میں سابق وزیر اعظم اور ان کی دادی اندرا گاندھی کی شبیہ دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پرینکا کے انداز و اطوار، چال ڈھال اور انداز گفتار سب کچھ اندرا گاندھی کی مانند ہے۔

پرینکا میں یہ خوبی ہے کہ وہ عوام کے درمیان آسانی سے پہنچ جاتی ہیں اور فوری طور پر ان سے خود کو کنکٹ کر لیتی ہیں۔ انھیں عوام سے گھلتے ملتے دیکھا جا چکا ہے۔

وہ حاضر جواب بھی ہیں۔ ایک بار ایک الیکشن کے موقع پر نریندر مودی نے کانگریس کو ”بوڑھی پارٹی“ قرار دیا تھا۔ جب اس بارے میں صحافیوں نے پرینکا کی رائے جاننے کی کوشش کی تو انھوں نے سوال کیا کہ کیا مودی جی کو میں بوڑھی نظر آتی ہوں۔

بعض دیگر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پرینکا کے آنے سے کانگریس کارکنوں میں نیا ولولہ آ گیا ہے۔ اس قدم سے پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ اپریل اور مئی میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ پرینکا گاندھی اتر پردیش کے نتائج پر جہاں لوک سبھا کی 543 نشستوں میں سے 80 نشستیں ہیں، کتنا اثر انداز ہوتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG