رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی پارلیمان میں سیاستدانوں کی فون کالز کی خفیہ ریکارڈنگ پر ہنگامہ


بھارتی پارلیمان میں سیاستدانوں کی فون کالز کی خفیہ ریکارڈنگ پر ہنگامہ

بھارتی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاس پیر کے روز اس وقت ملتوی کر دیے گئے جب مخالف سیاسی جماعتوں نے سیاستدانوں کی فون کالز کی مبینہ ریکارڈنگ پر پرزور احتجاج کیا اور وزیر اعظم من موہن سنگھ سے اس بارے میں وضاحت طلب کی۔

بھارتی پارلیمان (فائل فوٹو)
بھارتی پارلیمان (فائل فوٹو)

حالیہ دنوں میں بھارتی ذرائع ابلاغ میں کئی خبریں شائع ہوئیں تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ حکومت کے خفیہ ادارے سیاستدانوں بشمول حکومتی وزیروں کی فون کالز ریکارڈ کر رہے ہیں۔

بھارتی وزیر داخلہ پی چدم برم نے حکومت کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔ حالیہ بھارتی قوانین فون کالز کی ریکارڈنگ کی اجازت دیتے ہیں البتہ اس کے لیے وزارت داخلہ کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔

بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما ایل کے ایڈوانی نے فون کالز کی مبینہ ریکارڈنگ پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ”جمہوریت کو بچانا پڑے گا“۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ مسئلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب حکومت کو اپنے خلاف بڑھتی ہوئی تنقید سے بچنے کے لیے اتحادیوں کی مدد کی شدید ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG