رسائی کے لنکس

logo-print

ٹیسٹنگ، مریضوں کی تعداد اور اموات: بھارت میں کرونا کے نئے ریکارڈز


بھارت میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں مسلسل تیزی آ رہی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ نئے ریکارڈ بن رہے ہیں۔

بھارت میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں مسلسل تیزی آ رہی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ نئے ریکارڈز بن رہے ہیں۔ کرونا سے متاثرہ ملکوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر موجود بھارت میں جمعرات کو ریکارڈ اموات، کیسز اور ٹیسٹ رپورٹ ہوئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ​بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے 32 ہزار 695 نئے مریض سامنے آئے ہیں جو اب تک ایک دن میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں ایک دن میں ریکارڈ 606 اموات بھی ہوئی ہیں۔

کرونا وائرس کے مریضوں کی تلاش کے لیے کی جانے والی ٹیسٹنگ کے حوالے سے بھی بھارت میں نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے۔ بدھ کو بھارت میں تین لاکھ 26 ہزار سے زائد افراد کے سیمپلز لیے گئے ہیں جو بھارت میں ایک دن میں کیے جانے والے ٹیسٹس کی ریکارڈ تعداد ہے۔

بھارت کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ وہ عالمی ادارۂ صحت کی ہدایت کے مطابق روزانہ ہر 10 لاکھ لوگوں میں سے 140 افراد کے ٹیسٹس کر رہے ہیں۔ بھارت میں اب تک ایک کروڑ 27 لاکھ سے زائد ٹیسٹس کیے جا چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق جمعرات کو ریکارڈ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد بھارت میں 'کووڈ 19' کا شکار افراد کی کل تعداد نو لاکھ 68 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ بھارت میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 24 ہزار 915 ہے۔

کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کو دیکھتے ہوئے بھارت کی مختلف ریاستوں کی حکومتیں دوبارہ لاک ڈاؤن کر رہی ہیں۔ مہاراشٹر، تامل ناڈو، مغربی بنگال، آسام اور گووا سمیت تقریباً درجن بھر ریاستوں نے کرونا وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں دوبارہ پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

گووا کے وزیرِ اعلیٰ پرامود ساونت نے تین دن کے لاک ڈاؤن اور رات کے وقت کرفیو کا اعلان کیا ہے جو جمعرات کی رات سے ہی نافذ العمل ہو گا۔ گووا کو دو ہفتے قبل ہی سیاحوں کے لیے کھولا گیا تھا۔

پرامود ساونت نے کہا کہ لوگ سماجی فاصلوں کی ہدایت پر عمل نہیں کر رہے۔ ان کے بقول گووا میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 40 ہزار سے زائد لوگوں کو فیس ماسک نہ پہننے پر جرمانے بھی کیے گئے ہیں۔

ریاست بہار میں بھی جمعرات سے دو ہفتوں کے لاک ڈاؤن کا آغاز ہو رہا ہے۔ بہار کی آبادی 12 کروڑ 80 لاکھ سے زائد ہے جب کہ یہ بھارت کی غریب ریاستوں میں سے ایک ہے۔

محدود پیمانے پر کی جانے والی ٹیسٹنگ کے باوجود بہار میں روزانہ ایک ہزار سے زائد کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

بھارت کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی شرح میں بھی بتدریج اضافہ ہو رہا ہے جو بہت خوش آئند ہے۔ وزارتِ صحت کے مطابق بھارت میں صحت یاب مریضوں کی شرح 63٫24 فی صد ہو گئی ہے۔

بھارت میں 'کووڈ 19' کو شکست دینے والے مریضوں کی کل تعداد چھ لاکھ 12 ہزار سے زائد ہے جب کہ تین لاکھ 30 ہزار سے زیادہ لوگ اب بھی اس بیماری سے لڑ رہے ہیں۔

دوسری جانب بھارت میں ڈاکٹروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے طبی عملے کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ڈاکٹروں کی ایک تنظیم 'انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن' کے مطابق اب تک بھارت میں 99 ڈاکٹر کرونا کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار چکے ہیں جب کہ 1302 ڈاکٹر بیماری میں مبتلا ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ بھارت میں کرونا سے ڈاکٹروں کی شرحِ اموات سات اعشاریہ چھ فی صد ہے جو ملک کی قومی شرحِ اموات دو اعشاریہ پانچ فی صد سے بہت زیادہ ہے۔

میڈیکل ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹروں کے کام کے اوقات کم کیے جائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG