رسائی کے لنکس

logo-print

روس اور بھارت کے درمیان دفاعی ساز و سامان کی مشترکہ تیاری کے 14 معاہدے


روس کا لیزر سے آراستہ ٹی 90 ٹینک۔ بھارت روسی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اب ان کے سپیئرز ملک میں بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ فائل فوٹو

دفاعی ساز و سامان سے متعلق روس کے عہدے داروں اور بھارت کی اسلحہ ساز کمپنیوں کے درمیان جمعرات کے روز 14 معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ ان معاہدوں کا تعلق دفاعی شعبے اور ہتھیاروں کے سپیئر پارٹس کی مشترکہ تیاری سے ہے۔

روس اور بھارت نے گزشتہ سال ستمبر میں اس سلسلے میں ایک بین الحکومتی فریم ورک کی یاداشت پر دستخط کیے تھے۔

بھارتی فورسز کو روسی ساختہ ہتھیاروں اور آلات کے سپیئر پارٹس کی فراہمی میں طویل دوانیے کی تاخیر کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ روس گزشتہ چھ عشروں سے بھارت کو ہتھیار اور دفاعی ساز و سامان فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

بھارتی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک پریس ریلز میں بتایا گیا ہے کہ روس اور بھارت کی پانچویں انڈسٹریل کانفرنس کے موقع پر روس کے اسلحہ سازوں اور بھارتی کمپنیوں کے درمیان 14 ایم او یوز کا تبادلہ ہوا۔

اس سلسلے میں پیش کی جانے والی پہلی پروپوزل بھارتی نیوی کی ہتھیاروں کی صنعت سے متعلق تھی۔

پریس ریلز کے مطابق، دونوں فریقوں کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے آنے والے دنوں میں بہت سے دفاعی آلات اور ہتھیاروں کے سپیئر پارٹس بنانے کی راہ ہموار ہو گی۔

اس موقع پر بھارت کے سیکرٹری دفاع اجے کمار نے، جو اس کانفرنس کے شریک صدر بھی تھے، کہا کہ روسی اور بھارتی کمپنیوں کے درمیان تعاون کی رفتار تیز کرنے کے لیے بھارتی حکومت نے کئی اقدامات کیے ہیں اور ہم بہتر نتائج کی توقع رکھتے ہیں۔

روس کے صنعتوں کے نائب وزیر اولیگ ریاض نسوف نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ روس معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق تمام ضروری اقدامات کر رہا ہے، تاکہ سپیئر پارٹس کی بھارت میں جلد از جلد تیاری شروع کی جا سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG