رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کی سیکولر شناخت نہیں بدلے گی: تجزیہ کار


انڈیا گیٹ، نئی دہلی (فائل)

نامور صحافی، ونود شرما نے کہا ہے کہ ’’بھارت وہی رہے گا جیسا 1947 میں بنا تھا، جب ہم نے اپنے آپ کو ایک سیکولر ریاست قرار دیا تھا‘‘

بھارت میں چلنے والی حالیہ ہندو شدت پسندی کی لہر نے ملک کے سیکولر تشخص کو نقصان پہنچایا ہے۔ مگر، کیا یہ لہر اسی طرح چلتی رہے گی؟ اور کیا آنے والے انتخابات میں نوجوان ووٹر اور قیادت بھارت کے سیکولر تشخص کو برقرار رکھ سکیں گے؟

بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’’بھارت سیکولر ہی رہے گا، کیونکہ بھارتی آئین اور قانون سیکولر نظریات کو فروغ دیتا ہے؛ اور اس کی اعلیٰ عدالتوں نے بھی سیکولر ازم کے حق میں فیصلے دئے ہیں‘‘۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے چند صوبوں میں ہونے والے انتخابات کے نتائج اس بات کے عکاس ہیں کہ بھارتی عوام نے اُن لوگوں کے خلاف ووٹ دیا جنہوں نے بھارت کے سیکولر تشخص کو مجروح کرنے کی کوشش کی۔

’ہندوستان ٹائمز‘ کے ہندی ورژن کے ایڈیٹر، پرتاب سوم وانشی کہتے ہیں کہ ’’جب ایسے واقعات رونما ہوئے، جو حملے ہوئے یا بلوائیوں کے ہاتھوں ہلاکتیں ہوئیں، یا گائے کو ذبح کرنے پر بلووں کے واقعات ہوئے، تو ایسے واقعات پر بھارت ہی کی سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ غلط ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہئیے‘‘۔

پرتاب وانشی کے بقول، ’’اس کے بعد، وزیر اعظم تک کو کہنا پڑا کہ بلوائیوں کے ہاتھوں ہلاکتیں ہمارے لئے بہت شرم کی بات ہے‘‘۔

پرتاب نے کہا کہ ’’نظریات اپنی جگہ اور اِن کی حمایت اپنی جگہ، لیکن اس ملک کا آئین کسی شخص، گروہ یا جماعت کو سماجی تانے بانے کو توڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اور اس ملک کے عوام بھی اسی سماجی سیکولر بندھن کے حق میں ہیں‘‘۔

معروف صحافی اور دانشور، ڈاکٹر منیش کمار کہتے ہیں کہ ’’بھارت میں سیکولرازم تھا، ہے اور رہے گا‘‘۔ وہ اس کی وجوہات بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’پہلی بات یہ کہ ملک کا آئین، قوانین اور بھارت کی عدالتوں کے حوالے سے یہ بات طے ہے کہ یہاں مذہبی نظریات پر قوانین نہیں بنیں گے‘‘۔

دوسرے وہ کہتے ہیں کہ ’’بھارت میں مختلف ثقافتیں، مذاہب، زبانیں اور نسلیں ایک ساتھ رہتی ہیں، اور اگر کوئی جماعت بڑی اکثریت لیکر آ بھی جائے تو بھی وہ اسے تبدیل نہیں کر سکے گی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان میں ایک بات پر پوری طرح سے اتفاق ہے کہ آئین کے بنیادی قول اور اُصولوں کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا، اور ان میں سے ایک سیکولر ازم ہے‘‘۔

بھارت کے معروف اخبار کے پولیٹیکل ایڈیٹر، ونود شرما کہتے ہیں کہ ’’بھارت وہی رہے گا جیسا 1947 میں بنا تھا، جب ہم نے اپنے آپ کو ایک سیکولر ریاست قرار دیا تھا‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’آئین بنانے والوں نے اسے سیکولر قرار دیا تھا۔ حکمران جماعت بی جے پی کے چند لوگ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ آئین ہماری گیتا ہے۔ اگر یہ اُس گیتا سے الگ ہٹیں گے تو لوگ ان سے الگ ہو جائیں گے‘‘۔

ونود کہتے ہیں کہ ہندوستان کی سیکولر روایت چیلنج ہو سکتی ہے۔ ’’لیکن اس چیلنج کا جواب، اس ملک کے عوام بھرپور انداز میں دیں گے۔ اس ملک کے عام شخص کی زمین سے جڑی فراست، دانش مند لوگوں سے زیادہ بہتر ثابت ہوئی ہے، اور تاریخ اس کی گواہ ہے‘‘۔

آیا نوجوان ووٹر اور قیادت بھی سیکولرازم کی قائل ہے؟ اس کے جواب میں ڈاکٹر منیش کمار کا کہنا تھا کہ ’’کمیونل ازم کی بیماری جوان پیڑھی میں نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’کمیونل ازم بمقابلہ سیکولر ازم بنیادی طور پر 35 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کا مسئلہ ہے۔ نئی نسل سیاسی طور پر متحرک ہے، جو کہ ہمیں سوشل میڈیا میں نظر آتا ہے۔ وہ سیاسی طور پر سوچتے ضرور ہیں۔ لیکن اُن میں مذہب کے معاملے پر، یا آپسی بھائی چارے سے متعلق کوئی مسئلہ نہیں۔ اس طرح کی بیماری جو 35 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں پائی جاتی ہے، نوجوان نسل کو لاحق نہیں ہے‘‘۔

پرتاب سوم وانشی کہتے ہیں کہ ’’قیادت کے اور مسائل ہوتے ہیں کیونکہ انہیں ووٹ اپنی جانب کھینچنے ہوتے ہیں۔ مجھےاصل امید اپنے نوجوان ووٹروں سے ہے‘‘۔ پرتاب کہتے ہیں کہ انہیں لیڈروں سے کچھ زیادہ امید نہیں؛ اس وجہ سے ووٹروں کو سب کچھ اپنے ہاتھ میں لینا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک ’’نوجوان نسل آگہی رکھتی ہے اور درست فیصلہ کرے گی‘‘۔

اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے ونود شرما کہتے ہیں کہ ’’ہندوستان کے نوجوان ووٹروں کے مسائل ہی الگ ہیں۔ یہ نسل نوکری چاہتی ہے، اچھا معیارِِ زندگی چاہتی ہے، وہ اچھے معیار کی تعلیم چاہتی ہے، وہ بین الاقوامی سطح پر جا کر دیگر ملکوں کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتی ہے‘‘۔

ونود کہتے ہیں کہ ’’بھارت کی اکثریت کمیونل ازم پر یقین نہیں رکھتی وہ سیکولر ہے، وہ سب کو شامل کرنے والی ہے، وہ قتل و غارت نہیں چاہتی اور نہ ہی وہ لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہے‘‘۔

تاہم، تجزیہ کار اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ماضی قریب میں بھارت میں ہندو ازم نے زور پکڑا۔ لیکن وہ پر امید ہیں کہ بھارتی عوام سیکولر ہوتے ہوئے ایسی سوچ کو مسترد کر دے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG