رسائی کے لنکس

بھارت میں لا علاج مریض کو باعزت موت کی اجازت مل گئی


فائل فوٹو

سہیل انجم

سپریم کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں یہ کہتے ہوئے کہ شہریوں کو باعزت جینے کے ساتھ ساتھ باعزت مرنے کا بھی حق حاصل ہے، از راہ ہمددردی موت کی اجازت دے دی۔

اس نے کہا کہ جو شخص مرض الموت میں مبتلا ہو یا ناقابل علاج بے ہوشی میں چلا گیا ہو اس کے لائف سپورٹ سسٹم یعنی مصنوعی زندہ رکھنے کے آلات ہٹا لیے جانے چاہئیں۔

چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے اس بارے میں راہنما ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا صرف انہی مریضوں کے ساتھ کیا جا سکتا ہے جن کے صحت یاب ہونے کی امید نہ ہو۔

بینچ نے کہا کہ کیا ایسے لوگوں کو یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ دروازے سے نکل جائیں اور عزت کے ساتھ موت کو گلے لگا لیں۔ عدالت کے بقول بعض لوگوں کے لیے ان کی موت بھی جشن کا لمحہ ہو سکتی ہے۔

عدالت نے کہا کہ ناقابل علاج مریضوں کے اہل خانہ عدالت میں جا سکتے ہیں اور ایسی موت کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ عدالتی بورڈ اس پر فیصلہ کرے گا کہ اسے اس کی اجازت دی جائے یا نہیں۔ خیال رہے کہ بھارت میں ہلاکت خیز انجکش لگا کر موت دینا غیر قانونی ہے۔

بھارت میں 2015 میں اس وقت یہ بحث چھڑی تھی جب ایک 66 سالہ نرس ارونا شان باگ کی ایک دوست نے ان کے لیے عدالت سے از راہ ہمددردی موت کا مطالبہ کیا تھا۔ اس وقت سپریم کورٹ کے جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے اپنے فیصلے میں غالب کا یہ شعر استعمال کرتے ہوئے کہ مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی، موت آتی ہے پر نہیں آتی، مرضی کی موت دینے سے انکار کیا تھا۔ البتہ انہوں نے کہا تھا کہ اس پر بحث ہونی چاہیے۔ اس کے بعد یہ معاملہ آئینی بینچ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

ارونا کے ساتھ عالم شباب میں جنسی زیادتی ہوئی تھی جس کے بعد وہ مستقل کومہ میں چلی گئی تھیں۔ تقریباً 40 برسوں تک اسی حالت میں رہنے کے بعد ان کی موت ہو گئی تھی۔

سپریم کورٹ نے ایک نجی تنظیم کامن کاز کی درخواست پر مذکورہ فیصلہ سنایا ہے۔ تنظیم کی طرف سے پیش ہونے والے سینیر وکیل پرشانت بھوشن نے اسے ایک تاریخی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب اس بارے میں تمام شکوک و شبہات ختم ہو گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG