رسائی کے لنکس

ٹیلی کام اسکینڈل: پانچ ملزمان کی درخواستِ ضمانت مسترد


ٹیلی کام اسکینڈل: پانچ ملزمان کی درخواستِ ضمانت مسترد

ایک بھارتی عدالت نے بھارت کے مشہورِ زمانہ ٹیلی کام اسکینڈل میں ملوث پانچ ملزمان کی جانب سے دائر کردہ ضمانت پر رہائی کی درخواستیں مسترد کردی ہیں۔

پانچوں ملزمان کو بھارتی تحقیقاتی اداروں نے اپریل میں گرفتار کیا تھا اور عدالت میں پیش کردہ چالان میں ان پر 2008ء میں ٹیلی کام کمپنیوں کو لائسنس کی فروخت میں دھوکہ دہی، جعل سازی اور بدعنوانی میں معاونت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

پانچوں ملزمان ان 12 افراد میں شامل ہیں جنہیں ٹیلی کام اسکینڈل میں ملوث ہونے کے شبہ میں حکام نے حراست میں لیا ہے۔

بھارتی تحقیقاتی ادارے 'سینٹرل بیورو آف انٹیلی جنس' کے مطابق بھارت کے سابق وزیرِ ٹیلی کام اے راجا نے دیگر حکام سے ملی بھگت کے ذریعے موبائل فون سروسز کے لائسنس رعایتی نرخوں پر فروخت کرکے مخصوص کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا تھا۔سی بی آئی کا کہنا ہے کہ مذکورہ اسکینڈل کے ذریعے قومی خزانے کو 39 ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا۔

اے راجا نے گزشتہ برس کے اختتام پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد سے وہ سرکاری حکام کی حراست میں ہیں۔

مذکورہ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد وزیرِاعظم من موہن سنگھ کی سربراہی میں قائم کانگریس حکومت کو حزبِ مخالف کی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی جانب سےسخت تنقید اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

کانگریس کی حکومت آج کل کرپشن کے کئی بڑے اسکینڈلز کے باعث شدید عوامی دبائو کا شکار ہے۔

XS
SM
MD
LG