رسائی کے لنکس

logo-print

سلامتی کونسل: دو بھارتی شہریوں کو دہشتگرد قرار دینے کی پاکستانی درخواست مسترد


فائل فوٹو

بھارت نے اپنے دو شہریوں کو پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرانے کی درخواست مسترد کیے جانے پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا شکریہ ادا کیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے یہ تجویز بدھ کے روز سلامتی کونسل کی 1267 القاعدہ پابندی کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی تھی۔ امریکہ، فرانس، برطانیہ، جرمنی اور بلجیم نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔

پاکستان کا الزام ہے کہ بھارتی شہری گووند پٹنائک اور انگارہ اپّا جی جو کہ افغانستان میں برسرِ کار تھے، پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔

پاکستان نے سلامتی کونسل کے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد اقوامِ متحدہ میں بھارت کے مستقل مندوب ٹی ایس تری مورتی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کو مذہبی رنگ دے کر 1267 پابندی کمیٹی کے خصوصی عمل کو سیاست زدہ کرنے کی کوشش کی۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستو نے نئی دہلی میں آن لائن بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سلامتی کونسل کے سیکرٹریٹ نے پاکستان کی تجویز مسترد کر کے اس کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔

پاکستان ایک سال سے ان دونوں بھارتی شہریوں کو 1267 القاعدہ پابندی کمیٹی کے تحت دہشت گرد قرار دلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ اس کی تیسری کوشش تھی۔

پاکستان برسوں سے بھارت پر یہ الزام عائد کرتا آیا ہے کہ وہ افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

بھارت اس الزام کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں تعمیر و ترقی کے کام کر رہا ہے۔

روم میں واقع اقوامِ متحدہ ایجنسیز میں بھارت کے سابق مستقل نمائندے اور سابق سفارت کار راجیو ڈوگرہ نے، جو کراچی میں قونصل جنرل بھی رہ چکے ہیں، وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ بہت افسوس ناک ہے کہ افغانستان کے سلسلے میں بھارت اور پاکستان کی سوچ ایک دوسرے کے برعکس ہے۔

ان کے مطابق افغانستان میں تعمیری سرگرمیوں میں مصروف بھارتی انجینئروں اور دیگر عملے پر پاکستان دہشت گرد ہونے کا الزام عائد کرتا ہے جو کہ غلط ہے۔

پاکستان کے اس الزام پر کہ سلامتی کونسل کی پابندی کمیٹی کو سیاست زدہ کر دیا گیا ہے، راجیو ڈوگرہ نے کہا کہ سلامتی کونسل نے چوںکہ اسلام آباد کی تجویز مسترد کر دی ہے، اس لیے وہ یہ الزام لگا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے، جس کی وجہ سے سلامتی کونسل نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے مذکورہ دونوں افراد کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کیے تھے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے میڈیا بریفنگ میں سلامتی کونسل کے فیصلے پر اظہارِ افسوس کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض ارکان نے دو بھارتی شہریوں کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی پاکستان کی کوشش کو روک دیا۔

نئی دہلی سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامے 'انڈین ایکسپریس' کے مطابق گووند پٹنائک کابل میں ایک آئی ٹی کنسلٹنگ کمپنی میں کام کر رہے تھے۔ گزشتہ سال نومبر میں پاکستان نے ان کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرانے کی تجویز دی تھی۔ اس تجویز سے قبل گووند پٹنائک نے افغانستان چھوڑ دیا تھا۔ جب کہ انگارہ اپا جی کابل میں سافٹ ویئر انجینئر تھے۔ وہ پاکستان کی جانب سے درخواست سے ایک ماہ پہلے افغانستان سے چلے گئے تھے۔

پاکستان کا الزام ہے کہ گووند پٹنائک جولائی 2018 میں بلوچستان کے علاقے مستونگ میں ایک انتخابی ریلی میں ہونے والے بم دھماکے میں ملوث تھے جس میں 148 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جب کہ انگارہ اپا جی 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے میں ملوث تھے، جس میں طالب علموں سمیت 150 افراد مارے گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG