رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت امریکہ اسٹریٹجک ڈائلاگ کا آغاز: مضبوط تعلقات کا اعادہ


عالمی چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کے ساتھ ساتھ، دونوں ممالک نے انسدادِ دہشت گردی اورتجارت کےشعبوں میں تعاون کو وسیع کرنے کا اعادہ کیا ہے

دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں کی حیثیت سے بھارت اور امریکہ نے عالمی چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کے ساتھ ساتھ، انسدادِ دہشت گردی اور تجارت کےشعبوں میں تعاون کو وسیع کرنے کا اعادہ کیا ہے۔

جمعرات کے روز امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے واشنگٹن میں امریکہ بھارت اسٹریٹجک ڈائلاگ کے افتتاح کے موقعے پر اُبھرتی ہوئی عالمی اور معاشی طاقت کے طور پر بھارت کی تعریف کی۔

کلنٹن نے امریکہ بھارت ساجھے داری کے حوالے سے ایک نئے مرحلے کی ابتدا کا مطالبہ کیا جِس میں علاقائی سلامتی، دفاع اور صاف توانائی کی شعبوں میں تعاون پر دھیان مرکوز ہو۔

اُنھوں نے اِس بات کی نشاندہی کی کہ پچھلے برس دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی تجارت کی کُل مالیت 66ارب ڈالر تھی، جو 1990ء کی سطح کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہے۔

وزیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ مکالمے کے دوران، دونوں ممالک کی طرف سےشکوک پر غور کیا جائے گا ، جِس میں افغانستان کے مستقبل کے بارے میں بھارت کی تشویش ،اور معاشی اصلاحات کو قبول کرنے کے سلسلے میں بھارت کی آمادگی پر امریکہ کی تشویش کا معاملہ شامل ہے۔

بھارتی وزیرِ خارجہ ایس ایم کِرشنا نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کے سلسلے میں دونوں ملکوں کو یکساں دلچسپی ہے، اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف لڑائی میں مشترکہ کوششوں کی اہمیت کی نشاندہی کی۔

کرشنا نے کہا کہ دونوں ممالک دہشت گرد حملوں کی زد میں رہے ہیں، 2008ء کے ممبئی دہشت گرد حملوں کی چھان بین میں حمایت دینے پر امریکہ کا شکریہ ادا کہا۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ إِس مقدمے کا دوسرا منطقی قدم یہ ہوگا کہ امریکہ میں پکڑے گئے مشتبہ افراد تک بھارتی اہل کاروں کو رسائی دی جائے۔ کِرشنا نے مشبہ امریکی ڈیوڈ ہیڈلی کا نام نہیں لیا، جِس نے حملوں سے قبل ممبئی کے ٹھکانوں کی منصوبہ بندی میں قصور وار ہونے کا اقرار کیا ہے۔

بھارتی وزیرِ خارجہ نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون کو بڑھانے پر زور دیا تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔

XS
SM
MD
LG