رسائی کے لنکس

عسکریت پسندوں کے گھروں، رشتے داروں کو ہدف نہ بنائیں: محبوبہ مفتی

  • یوسف جمیل

بُدھ کے روز سرینگر کے قریب پولیس تربیتی مرکز سے خطاب کے دوران، جموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ عسکریت پسند پولیس اہلکاروں کے اہلِ خانہ پر حملے کر رہے ہیں۔ لیکن، پولیس کو اُن کے گھروں کے ہدف بنانے سے اجتناب کرنا چاہئیے

نئی دہلی کے زیرِانتظام کشمیر کی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پولیس سے کہا ہے کہ وہ ’’متنازع ریاست میں سرگرم عسکریت پسندوں کے گھروں پر حملے کریں اور نہ ان کے رشتے داروں کو ستائیں‘‘۔

بُدھ کے روز دارالحکومت سرینگر کے قریب واقع ایک پولیس تربیتی مرکز پر منعقدہ ایک تقریب پر اپنے خطاب کے دوران، انہوں نے کہا کہ عسکریت پسند پولیس اہلکاروں کے اہلِ خانہ پر حملے کر رہے ہیں۔ لیکن، پولیس کو اُن کے گھروں کے ہدف بنانے سے اجتناب کرنا چاہئیے۔

انہوں نے کہا کہ "پولیس اہلکاروں کو اپنی ڈیوٹی انجام دیتے وقت عسکریت پسندوں جیسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئیے۔ عسکریت پسند پولیس اہلکاروں اور حکمراں، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے کارکنوں کے گھروں میں زبردستی گھس کر توڑ پھوڑ کر رہے ہیں اور ان کے رشتے داروں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ لیکن، پولیس والوں کو شورش مخالف کارروائیاں کرتے ہوئے ربط و ضبط اور صبر و تحمل سے کام لینا ہوگا"۔

وزیرِ اعلیٰ کے مطابق، پولیس قانون کی محافظ اور طے شدہ اصولوں پر عمل کرنے والا فورس ہے جبکہ عسکریت پسند کسی ضابطے یا قانون کے پابند نہیں ہیں۔ اس لئے، پولیس کو اپنی ذمہ داری کا پورا احساس کرتے ہوئے وہ نہیں کرنا چاہیئے جو عسکریت پسند کر رہے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے، جو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر بھی ہیں، مزید کہا کہ"ہمیں لوگوں کے دِل جیتنے ہیں اور عسکریت پسندوں کو مار ڈالنا نہیں بلکہ شورش کا قلع قمع کرنا ہے۔ لہٰذا پولیس اور دوسرے حفاظتی دستوں کو چاہیئے کہ وہ مقامی عسکریت پسندوں کو تشدد کا راستہ ترک کرکے خود سُپردگی پر آمادہ کریں"۔

وزیرِ اعلیٰ نے یہ بیان نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ ایام کے دوراں پولیس کی طرف سے عسکریت پسندوں کے گھروں پر حملے کرکے توڑ پھوڑ کرنے اور ان کے رشتے داروں کو ہراساں کرنے کے مبینہ واقعات کے پس منظر میں دیا ہے۔ اس طرح کے چند واقعات کے دوراں پولیس نے عسکریت پسندوں کے اہلِ خانہ کو مبینہ طور پر زدوکوب بھی کیا تھا۔

اگرچہ پولیس نے ان الزامات کی تردید کی ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ پولیس عسکریت پسندوں کے گھروں اور ان کے رشتے داروں کو غالباً انتقامی جذبے کے تحت ہدف بنا رہی ہے، کیونکہ پولیس اور دوسرے حفاظتی اہلکاروں پر ان کے گھروں میں ان کی موجودگی یا غیر حاضری میں حملے کئے گئے ہیں۔ اس طرح کے حالیہ حملوں میں کم سے کم چار اہلکار مارے گئے ہیں۔ ایک واقعے میں جو ستمبر کے آخری ہفتے میں شمالی ضلع بانڈی پور کے حاجن علاقے میں پیش آیا تھا، بھارت کے سرحدی حفاظتی دستے یا بی ایس ایف کا ایک سپاہی محمد رمضان پرے ہلاک ہوا تھا، جبکہ اُس کا والد، دو بھائی اور پھوپھی زخمی ہوئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG