رسائی کے لنکس

logo-print

نئی دہلی: تین طلاق قابلِ سزا جرم قرار


فائل

بھارتی وزیر قانون نے بتایا کہ ’’پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت 22 اسلامی ملکوں میں ’طلاق ثلاثہ‘ کو قانون کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ لیکن، بھارت جیسے سیکولر ملک میں یہ اب بھی باقی ہے۔ اور، اس سے خواتین متاثر ہیں‘‘

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقدہ مرکزی کابینہ کے اجلاس میں ’طلاق ثلاثہ‘ کو ’’قابل سزا جرم‘‘ قرار دینے والے آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے۔

اس بل کو پارلیمنٹ کے گزشتہ اجلاس میں ایوانِ زیریں لوک سبھا نے منظور کر لیا تھا۔ مگر، ایوانِ بالا راجیہ سبھا میں یہ معلق ہو گیا تھا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے اس معاملے پر طویل سماعت کے بعد ’طلاق ثلاثہ‘ کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے یہاں ایک نیوز کانفرنس میں اس کا اعلان کیا اور اصل اپوزیشن جماعت کانگریس پر الزام لگایا کہ اس نے اسے منظور کرانے میں تعاون نہیں دیا۔ انھوں نے کانگریس پر اس معاملے پر سیاست کرنے کا بھی الزام عاید کیا۔

انھوں نے بتایا کہ اس قانون کے تین پہلو ہیں۔ پہلا یہ کہ اگر متاثرہ خاتون یا اس کے خونی رشتے دار شکایت درج کرائیں جبھی ’طلاق ثلاثہ‘ جرم مانی جائے گی۔ دوسرا یہ کہ اگر میاں بیوی کسی معاہدے پر پہنچ جائیں تو کیس ختم ہو جائے گا۔ لیکن، اس کے لیے ضروری ہوگا کہ متاثرہ خاتون خود مجسٹریٹ کے پاس جائے اور تیسرا یہ کہ مجسٹریٹ جائز بنیادوں پر ملزم کو ضمانت دے سکتا ہے لیکن عورت کا موقف سننے کے بعد۔

روی شنکر پرساد نے بتایا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت 22 اسلامی ملکوں میں ’طلاق ثلاثہ‘ کو قانون کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ لیکن، بھارت جیسے سیکولر ملک میں یہ اب بھی باقی ہے۔ اور، اس سے خواتین متاثر ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پورے ملک میں ’طلاق ثلاثہ‘ کے واقعات ہو رہے ہیں اور یہ مسلم خواتین کے حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس بارے میں انھوں نے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔

عدالتوں میں مسلم خواتین کے حقوق کی لڑائی لڑنے والے کارکنوں نے کابینہ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ لیکن، بعض حلقوں سے اس کی مخالفت کی جا رہی ہے۔

’آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ‘ عدالت میں کہہ چکا ہے کہ طلاق ثلاثہ غلط ہے۔ لیکن، وہ اس معاملے میں عدالت اور حکومت کی مداخلت کے خلاف ہے۔

کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے حکومت پر الزام عاید کیا کہ وہ تین طلاق کے معاملے کو سیاسی فٹبال کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور اس سے ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔

’آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین‘ کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے اسے غیر آئینی قرار دیا اور کہا کہ خواتین کی تنظیموں کو اسے عدالت میں چیلنج کرنا چاہیے۔

یہ معاملہ ایک عرصے سے سرخیوں میں ہے۔ ’طلاق ثلاثہ‘ کی شکار متعدد مسلم خواتین نے سپریم کورٹ میں اس کے خلاف اپیل دائر کی تھی جس پر عدالت عظمیٰ نے طلاق ثلاثہ کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور متاثرہ خواتین کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔

مسلک اہلحدیث اور اہل تشیع کے یہاں، بیک وقت تین طلاقوں کو ایک ہی مانا جاتا ہے۔ لیکن، حنفی مسلک میں تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔ ’مسلم پرسنل لا بورڈ‘ نے عدالت میں بیک وقت تین طلاقوں کو غلط بتایا۔ لیکن، اسے ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ البتہ، اس نے کہا کہ اس بارے میں مسلمانوں میں بیداری لائی جائے گی اور جو شخص بیک وقت تین طلاقیں دے گا اس کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے گا۔

بی جے پی مخالف جماعتوں اور بالخصوص مسلم جماعتوں کا الزام ہے کہ حکومت اس معاملے سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ مسلم خواتین کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے تین طلاق کو جرم قرار دے رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG