رسائی کے لنکس

نچلی ذات کے ہندوؤں اور مسلمانوں پر تشدد کے خلاف احتجاجی مظاہرے


بنگلور

گرفتار ہونے والے ایک شخص نے بتایا کہ اُنھوں نے جیند اور اُن کے بھائیوں پر اس وجہ سے حملہ کیا، کیونکہ بتایا گیا تھا کہ وہ گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ مرحوم کے ایک زخمی بھائی نے بتایا کہ ’’حملہ آوروں نے ہماری ٹوپیاں اتاریں اور گائے کا گوشت کھانے کا الزام لگایا‘‘

’’میرے نام پر نہیں‘‘ کے پوسٹر اٹھائے ہوئے، ہزاروں افراد نے بدھ کے روز بھارت کے مختلف شہروں میں مظاہرے کیے، جس کا مقصد جھگڑوں اور گائے ذبح کرنے کے الزام پر حالیہ دِنوں مسلمانوں اور نچلی ذات کے ہندوؤں پر ہونے والے حملوں کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔

یہ احتجاجی مظاہرے بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کی جانب سے حملوں کو روکنےکی کوشش نہ کرنے پر پائی جانے والی تشویش پر ہوا، جس کی بنیاد عام طور پر گائے کی اسمگلنگ یا بڑے گوشت کھانے کے الزام بنتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے تقریباً 20 افراد نے ایک مسلمان نوجوان کو ہلاک کردیا تھا، جو عید کے تہوار کی خریداری کے بعد نئی دہلی سے اپنے بھائیوں کے ہمراہ ریل گاڑی کے ذریعے گھر لوٹ آ رہا تھا۔ شہریوں کے احتجاج نے اُس وقت زور پکڑا جب شہری مظاہرین نے بدھ کے روز مل کر مار پیٹ اور بلوائیوں کے تشدد کے خلاف آواز بلند کی۔

ریل گاڑی میں،نشست بدلنے کے معاملے پر، 16 برس کے جنید خان کے ساتھ تو تو میں میں ہوئی، جنھیں چاقو گھونپ کر ہلاک کر دیا گیا۔

تاہم، گرفتار ہونے والے ایک شخص نے بتایا کہ اُنھوں نے جیند اور اُن کے بھائیوں پر اس وجہ سے حملہ کیا، کیونکہ بتایا گیا تھا کہ وہ گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ مرحوم کے ایک زخمی بھائی نے بتایا کہ ’’حملہ آوروں نے ہماری ٹوپیاں اتاریں اور گائے کا گوشت کھانے کا الزام لگایا‘‘۔

متعدد ہندو گائے کا گوشت کھانے کو معیوب سمجھتے ہیں، جو گائے کو ماتا قرار دیتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG