رسائی کے لنکس

بھارتی فوج کا سرحدی چوکی پر پاکستانی حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ


بھارتی دعوے کے مطابق فوج نے حملے کو ناکام بناتے ہوئے دو در اندازوں کو ہلاک کردیا۔

بھارتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب لائن آف کنٹرول پر واقع اگلی چوکی پر پاکستان کی بارڈر ایکشن ٹیم (باٹ) کی جانب سے کئے جانے والے حملے کو ناکام بنادیا ہے۔

بھارتی دعوے کے مطابق فوج نے حملے کو ناکام بناتے ہوئے دو در اندازوں کو ہلاک کردیا۔

بھارتی فوج کی جانب سے لگائے جانے والے الزام میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے کپواڑہ کے سرحدی علاقے میں واقع ایک چوکی پر حملے کی کوشش کی گئی جسے ناکام بنادیا گیا ۔

تاہم پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ،آئی ایس پی آر، کے مطابق بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر شاہ کوٹ کے مقام پر بلا اشتعال فائرنگ کی اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس سے ایک خاتون آسیہ بی بی ہلاک ہوگئی جبکہ فائرنگ سے 9 شہری زخمی بھی ہوئے جن میں 3 بچے اور 2 خواتین بھی شامل ہیں۔

بھارت نے پاکستان پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں دو دراندازوں کو ہلاک کردیا گیا جنھیں مبینہ طور پر پاکستان آرمی کی طرف سے ’کور فائر‘ دیا گیا تھا تاہم پاکستان فوج کی طرف سے بھارتی فوج کے اس دعوے کے بارے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

سرینگر میں بھارتی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ واقعہ ناگام سیکٹر میں اتوار کو پیش آیا۔ ترجمان کے مطابق اس واقعے کے بعد افواج کے درمیان ہلکے اور درمیانی درجے کے ہتھیاروں اور مارٹر توپوں کا تبادلہ رات بھر جاری رہا۔

بھارتی فوج نے واقعے سے متعلق ایک بیان بھی جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مبینہ در اندازوں نے گھنے جنگل کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے حد بندی لائن کے بھارتی علاقے میں پیش قدمی کی تھی۔

بیان کے مطابق ’ حد بندی لائن پر تعینات بھارتی فوج کے سپاہیوں نے اس نقل و حرکت کو بھانپتے ہوئے پاکستانی فائرنگ کا جواب دیا جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ رات بھر جاری رہا۔

بھارتی فوج کے بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ مارے گئے افراد نے پاکستانی فوج جیسی وردیاں پہن رکھی ہیں اور یہ کہ ان کے ساتھی پاکستانی فوج کی فائرنگ اور منفی موسمی حالات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

بھارتی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ در انداز بھاری تعداد میں ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ دیسی ساختہ بموں اور دھماکہ خیز اور آگ لگانے والے مواد سے لیس تھے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ نئے سال کی آمد پر ناگام سیکٹر میں بھارتی فوج کی اگلی چوکی پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جسے ناکام بنادیا گیا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشیمر میں فائرنگ سے ہلاکتیں

ادھر مظفر آباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وادی نیلم میں فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ پیر کی صبح پیش آیا ۔وادی نیلم کے ڈپٹی کمشنر شاہد محمود نے بتایا کہ سرحدی علاقوں میں واقع مختلف گھروں پر بھارتی فوج کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔

گولے گرنے اور ان کے ٹکڑے لگنے سے ایک خواتین اور بچوں سمیت نو افراد زخمی ہوگئے ۔ان میں سے ایک خاتون زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئی۔ فائرنگ اور شیلنگ سے کئی مکانوں ، ایک اسپتال اور دوسری املاک کوبھی نقصان پہنچا۔

آٹھ مقام میں واقع ڈی ایچ کیو اسپتال کے ڈاکڑ بلال اکبر نے وائس آف امریکہ کو صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایک گولہ وادی نیلم کے ضلعی ہیڈ کوارٹر آٹھمقام میں واقع مرکزی اسپتال کے قریب گرنے سے اسپتال کی عمارت کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ علاقے میں خوف ہراس پیدل گیا ۔

واقعے کے بعد تعلیمی ادارے بند کردئیے گئے جبکہ علاقہ مکینوں کوفوری طور پر محفوظ مقامات پر پناہ لینا پڑی ۔ اس دوران وادی نیلم کو مظفرآباد سے ملانے والی شاہراہ بھی بند کر دی گی۔

دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر آئے روز گولہ باری اور فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے جس میں دونوں اطراف کے فوجیوں کے علاوہ عام شہری بھی مارے جاتے ہیں۔دونوں ممالک کی جانب سے فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی میں پہل کرنے کے بھی الزامات ایک دوسرے پر عائدکئے جاتے ہیں۔پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رگ اور بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا آیا ہے۔

  • 16x9 Image

    یوسف جمیل

    یوسف جمیل 2002 میں وائس آف امریکہ سے وابستہ ہونے سے قبل بھارت میں بی بی سی اور کئی دوسرے بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نامہ نگار کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ انہیں ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں اب تک تقریباً 20 مقامی، قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا جاچکا ہے جن میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی طرف سے 1996 میں دیا گیا انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG