رسائی کے لنکس

محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ سمیت کئی کشمیری رہنما نظربند


جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ، محبوبہ مفتی (فائل)
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ، محبوبہ مفتی (فائل)

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے حکام نے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبد اللہ اور تین دوسرے لیڈروں کو سخت گیر قانون، پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے ) کے تحت نظر بند کر دیا ہے۔

جمعرات کو رات گئے سرینگر کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ شاہد اقبال چوہدری نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو پی ایس اے کے تحت نظر بند کرنے کے حکم ناموں پر دستخط کیے۔ اس سے پہلے بھارتی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی تھی کہ نئی دہلی میں وزارتِ داخلہ نے ان لیڈروں کو اس قانون کے تحت قید کرنے کے لیے مقامی انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔

عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی ان سینکڑوں سیاسی لیڈروں، سرگرم کارکنوں، وکلا، تجارتی انجمنوں کے عہدیداروں اور سول سوسائٹی گروپس سے وابستہ افراد میں شامل ہیں جنہیں 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر کی آئینی نیم خود مختاری کو ختم کرنے اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے براہِ راست وفاق کے کنٹرول والے علاقے بنانے کے اعلان پہلے یا اس کے فوراً بعد حراست میں لیا تھا۔ استصواب رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کو بھی قید کر دیا گیا یا پھر انہیں ان کے گھروں میں نظر بند کیا گیا۔

محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کہاں ہیں؟

محبوبہ مفتی جو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر ہیں اس وقت سرینگر کے مولانا آزاد روڑ کے علاقے میں واقع سرکاری بنگلہ نمبر 5 اور عمر عبداللہ جو جموں و کشمیر کی سب سے پُرانی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کے نائب صدر ہیں شہر کے گپکار روڑ علاقے میں واقع سرکاری گیسٹ ہاؤس 'ہری نواس' میں قید ہیں۔ ان دونوں جگہوں کو حکام نے عارضی جیلوں میں بدل دیا ہے۔

اس سے پہلے بُدھ کی رات کو سابق صوبائی وزیر اور نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکرٹری علی محمد ساگر اور پی ڈی پی کے سابق سینئر نائب صدر محمد سرتاج مدنی کو بھی پی ایس اے کے تحت نظر بند کرنے کے بعد سرینگر کے ایم ایل ایز ہوسٹل سے گپکار روڑ پر واقع ایک 'سبسڈری جیل‘ میں منتقل کیا گیا تھا۔ سرتاج مدنی محبوبہ مفتی کے ماموں ہیں اور بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہ چکے ہیں۔

عوام کو موبالائز کرنے کی صلاحیت نظر بندی کی وجہ

اگرچہ یہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکا کہ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو پی ایس اے کی تحت نظر بند کرنے کے لیے کن گراؤنڈس کو جواز بنایا گیا ہے، ساگر اور مدنی کے لیے جاری کردہ احکامات میں اور باتوں کے علاوہ کہا گیا ہے کہ وہ مختلف امور پر عوام کو جمع کرنے اور اُنہیں آواز اٹھانے پر آمادہ کرنے کی صلاحیت اور دسترس رکھتے ہیں۔

شاہ فیصل بھی نظر بند

2009 میں بھارت کے سول سروسز امتحانات میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے کشمیری ڈاکٹر شاہ فیصل کو بھی پی ایس اے کے تحت نظر بند کیے جانے کی اطلاع ہے۔

شاہ فیصل نے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی انتظامیہ میں کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے کے بعد جنوری 2019 میں سرکاری ملازمت سےاستعفیٰ دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ بھارتی زیرِ انتظام میں بلا تخفیف ہلاکتوں اور بھارت میں آباد بیس کروڑ مسلمانوں کو غیر اہم بنانے اور گمنانی کی طرف دھکیلنے نیز انہیں مبینہ طور پر بنیاد پرست ہندتوا طاقتوں کی طرف سے عملاً دوسرے درجے کے شہری بنانے کے خلاف انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس یا آئی اے ایس سے مستعفی ہوئے ہیں۔ بعد میں انہوں نے باضابطہ طور پر عملی سیاست میں شامل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے جموں و کشمیر پیپلز موؤمنٹ نام سے ایک نئی سیاسی جماعت قائم کی تھی۔

موقف نہ بدلنے کی سزا!

ان لیڈروں کو ان اطلاعات کے بیچ پی ایس اے کے تحت نظر بند کر دیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت جموں و کشمیر کے ایسے غیر لچک دار سیاست دانوں اور کارکنوں کے خلاف سخت رویہ اپنا رہی ہے جو اس کی طرف سے 5 اگست 2019 کو اٹھائے گیے متنازع اقدامات کے خلاف اپنے موقف میں تبدیلی لانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

اس سے پہلے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو جموں و کشمیر کی آئینی نیم خود مختاری کو ختم اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بھارتی حکومت کے فیصلے کے خلاف آواز اٹھانے پر پی ایس اے کے تحت نظر بند کیا گیا تھا۔ 83 سالہ فاروق عبداللہ جو ریاست کے تین بار وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں اور اس وقت بھارتی پارلیمنٹ کے ممبر ہیں 5 اگست 2019 سے سرینگر کے گپکار روڑ پر واقع اپنے گھر میں نظر بند ہیں۔ 14 ستمبر کو انہیں باضابطہ طور پر پی ایس اے کے تحت تین ماہ تک نظر بند کرنے کے احکامات صادر کیے گیے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ان کی رہائش گاہ کو 'سبسڈری جیل' قرار دیدیا گیا۔ دسمبر میں ان کی نظر بندی میں تین ماہ کی توسیع کی گئی۔

کئی لیڈر رہا، کئی ایک ہنوز بند

5 اگست 2019 کو یا اس کے فوراً بعد جن کشمیری سیاسی لیڈروں اور کارکنوں کو باضابطہ طور پر پی ایس اے یا دوسرے قوانین کےتحت نظر بند کرنے کے احکامات صادر کیے گیے ان میں سے کئی ایک کو بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں منتقل کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ پولیس نے چار ہزار کے قریب ایسے افراد کو بھی حراست میں لے لیا تھا، جن کے بارے میں اس کا دعویٰ تھا کہ وہ امن و امان میں رخنہ ڈال رہے تھے یا ایسا کرسکتے تھے۔ تاہم، عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے بیشتر کو اب رہا کیا جا چکا ہے۔

چھہ ماہ پہلے حراست میں لیے گیے سیاسی لیڈروں اور کارکنوں میں سے تقریباً پچاس کو پچھلے چند ہفتوں کے دوران الگ الگ تاریخوں پر رہا کیا گیا۔ سرینگر کے ایم ایل ایز ہوسٹل سے رہائی پانے والوں میں سابق صوبائی وزیر اور جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون اور پی ڈی پی کے یوتھ لیڈر وحید الرحمٰن پّرہ بھی شامل ہیں۔ تاہم، ان دونوں کو بدھ کے روز پولیس کی طرف سے ایم ایل ایز ہوسٹل سے ان کی سرکاری رہائش گاہوں میں منتقل کرنے کے فوراً بعد خانہ نظر بند کر دیا گیا۔

رہائی پانے والوں میں شامل کئی افراد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایسے بانڈس پر دستخط کیے ہیں جن میں کسی ایسی سیاسی یا کسی دوسری نوعیت کی سرگرمی میں حصہ نہ لینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے جو حکومت کے نزدیک غیر پسندیدہ ہے یا جس سے امن و امان میں رخنہ پڑنے کا احتمال ہو۔

پی ایس اے کیا ہے؟

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں 1978 سے نافذ پی ایس اے کے تحت کسی بھی شخص کو اُس پر مقدمہ چلائے بغیر دو سال تک قید کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس طرح کی نظر بندی کو ایک عام عدالت میں چیلینج کیا جا سکتا ہے۔ نیز ایک سرکاری کمیٹی اس طرح کے معاملات کا وقفے وقفے سے جائزہ لیتی ہے۔

اس قانون کو جب بیالیس سال پہلے جموں و کشمیر میں پہلی بار متعارف کرایا گیا تھا تو اُس وقت کشمیر کے قداور سیاسیدان شیخ محمد عبداللہ ریاست کے وزیرِ اعلیٰ تھے۔ اُس وقت کہا گیا تھا کہ ریاست میں جنگلات سے لکڑی کی غیر قانونی کٹائی اور اسمگلنگ کا توڑ کرنے کے لیے اس طرح کے سخت گیر قانون کا موجود ہونا ناگزیر ہے۔ تاہم، مختلف ریاستی حکومتوں نے اس قانون کا سیاسی مخالفین کے خلاف کھلے عام اور بے دریغ استعمال کیا۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

بھارتی کشمیر کی سیاست کا المیہ!

المیہ یہ ہے کہ فاروق عبداللہ، اُن کے بیٹے عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کی حکومتوں نے بھی پی ایس اے کو اپنے سیاسی مخالفین بالخصوص علحیدگی پسندوں کے خلاف استعمال کیا۔

گزشتہ سال جون میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں پی ایس اے کو ایک ایسا قانون قرار دیدیا تھا، جو اس کے بقول، بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں انسداد جرم کے عدالتی نظام کو بالائے طاق رکھ کر احتسابی نظام، شفافیت اور انسانی حقوق کو نظر انداز کرتا ہے۔

بُدھ کو بھارت کے داخلی امور کے وزیرِ مملکت جی کشن ریڈی نے نئی دہلی میں پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا میں پوچھے گیے ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا تھا کہ اس وقت جموں و کشمیر میں کُل 389 افراد پی ایس اے کے تحت قید ہیں۔ ان کے مطابق، اگست 2019 سے 444 افراد کے خلاف اس قانون کے تحت نظر بندی کے احکامات صادر کیے گیے ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان احکامات پر وقتاً فوقتاً نظر ثانی کی جاتی ہے اور نظر بندی کی مدت ختم کرنے یا بڑھانے کے بارے میں فیصلے ہر ایک کیس کا الگ الگ جائرہ لینے کے بعد کیے جاتے ہیں۔

  • 16x9 Image

    یوسف جمیل

    یوسف جمیل 2002 میں وائس آف امریکہ سے وابستہ ہونے سے قبل بھارت میں بی بی سی اور کئی دوسرے بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نامہ نگار کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ انہیں ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں اب تک تقریباً 20 مقامی، قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا جاچکا ہے جن میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی طرف سے 1996 میں دیا گیا انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG