رسائی کے لنکس

logo-print

پی سی بی چیئرمین سے ملاقات منسوخ کرنے پر بھارتی بورڈ کی 'معذرت'


پی سی بی یہ کہہ چکا ہے کہ اس سیریز کے نہ ہونے کی صورت میں اس نے متبادل منصوبہ بھی بنا رکھا ہے لیکن اسے امید ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گا۔

بھارت میں کرکٹ کے انتظام و انصرام کے ادارے "بی سی سی آئی" نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک خط لکھا ہے جس میں رواں ماہ ممبئی میں دونوں اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں کی طے شدہ ملاقات منسوخ ہونے پر معذرت کی گئی ہے۔

جمعرات کو پاکستان کرکٹ بورڈ "پی سی بی" کا کہنا تھا کہ چیئرمین شہریار خان کو بھارتی بورڈ کے صدر ششانک منوہر کی طرف سے بھیجا گیا خط موصول ہوا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ "انتہا پسندوں کے دباؤ کی وجہ سے انھیں یہ ملاقات منسوخ کرنی پڑی۔"

رواں ماہ کے اوائل میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے ہمراہ ممبئی میں بھارتی کرکٹ بورڈ کے کرتا دھرتاؤں سے ملاقات کے لیے گئے تھے جس میں دسمبر میں ہونے والی مجوزہ دو طرفہ کرکٹ سیریز پر بات چیت کی جانی تھی۔

لیکن ملاقات سے قبل ہی ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا کے لوگوں نے پاکستانی عہدیداروں کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی بورڈ پر دھاوا بول دیا اور اس ملاقات کو منسوخ کرنے پر زور دیا۔

پی سی بی کے مطابق خط میں ششانک منوہر نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان کے بورڈ نے دو طرفہ سیریز سے متعلق بھارتی حکومت سے "حتمی رہنمائی" لینے کے لیے بھی باضابطہ طور پر رابطہ کر لیا ہے۔

گزشتہ سال دونوں ملکوں کے کرکٹ بورڈز نے آئی سی سی کے تحت ایک معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق 2015 سے 2023 کے درمیان چھ دوطرفہ کرکٹ سیریز کھیلی جائیں گی۔

شہریار خان بھارتی عہدیداروں سے ملاقات نہ ہونے پر خاصے نالاں تھے اور وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ دسمبر میں مجوزہ سیریز کے لیے وہ زیادہ پرامید نہیں ہیں۔

پی سی بی یہ کہہ چکا ہے کہ اس سیریز کے نہ ہونے کی صورت میں اس نے متبادل منصوبہ بھی بنا رکھا ہے لیکن اسے امید ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گا۔

پاکستانی بورڈ کے مطابق وہ کرکٹ اور کھیل کو علیحدہ رکھتا ہے اور اسے امید ہے کہ بھارتی بورڈ ایسے انتہا پسند عناصر کے ہاتھوں یرغمال نہیں بنے گا جو کرکٹ کے دو طرفہ تعلقات کو سبوتاژ کرنے کے آرزو مند ہیں۔

حالیہ مہینوں میں بھارت میں آئے پاکستان کے کھلاڑیوں اور فنکاروں کو شیو سینا کی طرف سے دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں جس کے بعد مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی پاکستانی شخصیات کو اپنے دورے منسوخ یا محدود کرنے پڑے۔

ادھر بھارت میں انتہا پسند تنظیم کے خلاف بعض حلقے خاصے شاکی ہیں اور انھوں نے حکومت کو اس سارے معاملے پر تادیبی اقدام نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔

پاکستان اور بھارت دنیائے کرکٹ کے روایتی حریف ہیں اور ان دونوں کے درمیان ہونے والے کرکٹ کے مقابلے دونوں ملکوں کے علاوہ دنیا بھر میں اس کھیل کے شائقین کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔

2007ء کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان کوئی باقاعدہ مکمل کرکٹ سیریز نہیں کھیلی گئی۔ صرف 2012ٰء میں ایک مختصر سیریز کے لیے پاکستانی ٹیم نے بھارت کا دورہ کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG