رسائی کے لنکس

logo-print

ستر لاکھ کے عوض 'الہٰ دین کا چراغ' خریدنے والا بھارتی ڈاکٹر لٹ گیا


بھارت میں پولیس نے ایک انوکھا مقدمہ درج کر کے دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر ایک ڈاکٹر کو جن نکلنے کے دعوے پر 70 لاکھ کے عوض 'الہ دین' کا چراغ فروخت کیا تھا۔

بھارتی ریاست اترپردیش کے سادہ لوح ڈاکٹر نے پولیس کو درج کرائی گئی درخواست میں کہا کہ ملزمان نے جادوئی طاقت رکھنے والا الہٰ دین کا چراغ فروخت کیا اور اسے رگڑنے سے مبینہ طور پر 'جن' بھی نظر آیا۔ لیکن گھر لانے پر اسے رگڑا تو کچھ بھی برآمد نہیں ہوا۔

لوک کہانیوں میں یہ روایت عام ہے کہ 'الہٰ دین' کا چراغ رگڑنے سے ایک جن برآمد ہوتا ہے جو مالک کی ہر خواہش پوری کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق ایک پولیس اہلکار امیت رائے کا کہنا ہے کہ نوسربازوں نے ڈاکٹر لئیق سے 93 ہزار ڈالر جو 70 لاکھ بھارتی روپوں کے برابر بنتے ہیں اینٹھ لیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ دو ملزمان کو جمعرات کو گرفتار کر کے اُن کا ریمانڈ حاصل کر لیا گیا جب کہ اس گروہ میں ایک خاتون بھی شامل ہے جس کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق پولیس کے پاس درج کرائی گئی رپورٹ میں لئیق خان کا کہنا ہے کہ "ان دو افراد میں سے ایک شخص جادوگر بن کر سامنے آیا۔ جس نے چراغ سے جن نکالا۔"

اُن کا مزید کہنا تھا کہ جب اس نے جن کو چھونے اور چراغ کو گھر لے جانے سے متعق پوچھا تو ان دو افراد کی طرف سے انکار کر دیا گیا اور کہا گیا کہ ایسا کرنے سے اسے نقصان ہو سکتا ہے۔

آخر کار ملزمان یہ چراغ لئیق خان کو یہ کہہ کر فروخت کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ اس چراغ سے اسے اچھی صحت، دولت اور اچھی قسمت ملے گی۔

لئیق خان کا کہنا تھا کہ انہیں بعدازاں احساس ہوا کہ چراغ رگڑنے سے نکلنے والا جن درحقیقت ان دو افراد میں سے ایک شخص تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان اس سے قبل بھی سادہ لوح افراد کو دھوکہ دے کر رقوم حاصل کرتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG