رسائی کے لنکس

’مہیلا ایمپاورمنٹ پارٹی‘ کا تصور ہے: ’خواتین کی پارٹی، خواتین رہنما، خواتین ورکرز اور خواتین ہی خواتین کے حقوق کے لئے کوشاں‘۔ جماعت کی بانی صدر ایک مسلمان تاجر خاتون ہیںجنہیں عام عورتیں اپنے لئے امید کی کرن قرار دیتی ہیں۔

’خواتین کی پارٹی، خواتین رہنما، خواتین ورکرز اور خواتین ہی خواتین کے حقوق کے لیے کوشاں ‘۔۔ ہے ناں یہ نیا خیال۔ اس خیال کو پیش کرنے والی ہیں بھارت کی ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر نوہیرا۔

ڈاکٹر نوہیرا ویسے تو پیشے کے اعتبار سے بزنس وومن ہیں۔ وہ’ہیرا گروپ‘ کی سی ای او اور منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ ہیرا گروپ کی 20کمپنیاں ہیں اور یہ کمپنیاں صرف بھارت میں ہی نہیں دنیا کے پانچ ملکوں میں کام کر رہی ہیں۔

اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود وہ سیاست جیسی پر خار راہ پر کیوں آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔ اس کا جواب انہوں نے اپنی ایک حالیہ پریس کانفرنس میں دیا۔ ان کا کہنا تھا ’سیاست اور بزنس دونوں الگ، الگ چیزیں ہیں۔ اس لئے انہیں الگ ہی رکھنا اور شمار کیا جانا چاہئے۔‘

انسانی حقوق کے لئےسرگرم رہنے والی مسلم اسکالر ڈاکٹر نوہیرا کا نام سیاسی میدان میں نیا سہی، لیکن وہ فلاحی اور خواتین کی بہبود کے کاموں میں کافی عرصے سے مصروف عمل ہیں۔

بھارت میں خواتین ایک عرصے سے عدم تحفظ اور خوف کا شکار ہیں جس کی بڑی وجہ خواتین پرتشدد اور زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات ہیں۔ نئی دہلی کو تو خواتین کے لئے غیر محفوظ تک قرار دیا جا چکا ہے۔

اس پس منظر میں خواتین کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے اور حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد کے لئے ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے خواتین کے لئے ایک نئی سیاسی جماعت ’مہیلا ایمپاورمنٹ پارٹی‘ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ڈاکٹر نوہیرا کا کہنا ہے ان کی پارٹی 2018 میں کرناٹک کی صوبائی اسمبلی کے انتخابات سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کرے گی۔

پریس کانفرنس میں ڈاکٹر نوہیرا نے اپنی جماعت’مہیلا ایمپاورمنٹ پارٹی‘ بنانے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ ’سیاسی جماعت بنانے کا مقصد بغیر مسلک، مذہب، ذات پات اور برادری کی تفریق، خواتین کو معاشرے میں باعزت مقام اور اختیار دلانا ہے۔‘

ڈاکٹر نوہیرا کے بقول، ان کی پارٹی کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں۔ لیکن پارٹی کی 80فیصد کارکن خواتین ہوں گی۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کی جماعت ’ایم ای پی‘ کے ملک بھرمیں اب تک سولہ لاکھ کارکن بن چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین کی ہے۔

اگر ان کی پارٹی ریاستی الیکشن جیت گئی تو ایوان میں ان کی ترجیحات کیا ہوںگی؟ اس سوال پر ڈاکٹر نوہیرا نے کہا کہ ’’ہماری سب سے پہلی ترجیح کے طور پر یہ کوشش ہوگی کہ سولہ سال سے پارلیمنٹ میں زیر التوا قانون ساز اداروں میں خواتین کے لئے 33فیصد نشستیں مخصوص کرنے کا بل منظور کرایا جائے۔‘‘

ڈاکٹر نوہیرا نے دیگر سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دوسری سیاسی جماعتیں خواتین کو حقوق دلانے کے لمبے چوڑے دعوے تو کرتی ہیں۔ لیکن، عملی طور پر کچھ نہیں کیا جاتا۔ اقتدارمیں آکر بھی اس سلسلے میں برائے نام اقدامات ہی کئے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر نوہیرا کو امید ہے کہ ان کی پارٹی کرناٹک کے ریاستی انتخابات میں سیٹیں جیت کر پارلیمنٹ میں خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کا حل ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG