رسائی کے لنکس

logo-print

پاک بھارت تعلقات میں بہتری کا پیغام لے کر آئی ہوں: سشما سوراج


2012ء کے بعد کسی بھارتی وزیر خارجہ کا یہ اسلام آباد کا پہلا دورہ ہے۔ اس سے قبل کانگریس کے دور اقتدار میں وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے ستمبر 2012 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج منگل کی شام اسلام آباد پہنچ گئی ہیں۔ وہ افغانستان سے متعلق ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں بھارتی وفد کی قیادت کر رہی ہیں جس میں سیکرٹری خارجہ ایس جے شنکر بھی شامل ہیں۔

پاکستان آمد کے بعد ہوائی اڈے پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاک بھارت تعلقات میں بہتری اور آگے بڑھنے کا پیغام لے کر آئی ہیں۔

’’کیونکہ یہ کانفرنس پاکستان میں ہو رہی ہے اس لیے مجھ پر یہ لازم بھی ہے اور واجب بھی کہ میں پاکستان کے وزیراعظم نواز صاحب سے ملوں اور اپنے ہم منصب سرتاج صاحب سے ملوں۔ تو دونوں سے میری ملاقات ہو گی اور دونوں ملکوں کے آپسی رشتے اور سدھارنے اور آگے بڑھانے کے بارے میں بات بھی ہو گی۔‘‘

یہ 2012 کے بعد کسی بھارتی وزیر خارجہ کا اسلام آباد کا پہلا دورہ ہے۔ اس سے قبل کانگریس کے دور اقتدار میں وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے ستمبر 2012 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ 30 نومبر کو پیرس میں موسمیاتی تغیر پر ہونے والی عالمی کانفرنس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف سے مختصر غیر رسمی ملاقات کی تھی جس کے بعد اتوار کو دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں ملاقات ہوئی۔

بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور ان کے پاکستانی ہم منصب ناصر خان جنجوعہ کے مابین اس ملاقات میں پاکستان اور بھارت کے سیکرٹری خارجہ بھی موجود تھے۔

قومی اسمبلی کے رکن طلال چوہدری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اگر بھارت بالغ نظری کا ثبوت دے تو پاکستان کی خواہش ہو گی کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں۔

’’ان تعلقات کی وجہ سے افغانستان پر بھی اثر پڑتا ہے۔ ان تعلقات کا چین اور ایران تک اثر پڑتا ہے۔ بھارت ایک بڑا ملک ہے اور اپنے آپ کو بڑی جمہوریت سمجھتا ہے تو اس کو اپنا دل بھی بڑا کرنا چاہیئے جو بدقسمتی سے اب تک نظر نہیں آیا۔‘‘

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے ایک اور قانون ساز رانا محمد افضل نے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ کا دورہ افغانستان کے تناظر میں بہت اہم ہے۔

’’میرا خیال ہے کہ یہ ایسا موقع ہو گا جس کے بعد ہمیں پھر سے قربت حاصل ہو گی اور آپس میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کا موقع ملے گا۔‘‘

کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ سشما سوراج کی پاکستان آمد کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ سیریز کے انعقاد سے متعلق بھی کوئی حتمی فیصلہ ہو سکے گا۔

یہ سیریز وسط دسمبر میں طے تھی مگر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے باعث اس کے انعقاد کا فیصلہ تعطل کا شکار رہا ہے۔

اگرچہ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف یہ کہتے رہے ہیں کہ پاکستان بھارت سے تعلقات بہتر بنانا چاہتا ہے مگر 2014 میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد متنازع علاقے کشمیر میں حد بندی یعنی ’لائن آف کنٹرول‘ اور ’ورکنگ باؤنڈری‘ پر کشیدگی میں اضافہ ہوا اور اس سال دونوں ممالک کے عہدیداروں کے درمیان تلخ بیان بازی کا سلسلہ بھی چلا۔

بعد ازاں جولائی میں اوفا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر دونوں وزرائے اعظم نے اپنی ملاقات میں دہلی میں قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات پر اتفاق کیا تھا۔ مگر پاکستانی ہائی کمیشن کی طرف سے اس وقت قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز کے دورہ بھارت کے موقع پر کشمیری رہنماؤں سے ملاقات طے کرنے پر بھارت نے شدید احتجاج کیا تھا، جس کے بعد یہ مذاکرات منسوخ کر دیے گئے تھے۔

اس وقت بھارت کا اصرار تھا کہ صرف دہشت گردی پر بات کی جائے گی جبکہ پاکستان کا مؤقف تھا کہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات بات چیت کا موضوع ہوں گے۔

سشما سوارج اس سے پہلے 2002 میں بی جے پی کی حکومت میں بھارت کی وزیر اطلاعات کی حیثیت سے پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں۔

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے موقع پر اسلام آباد میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں جہاں بھارتی وزیر خارجہ کے علاوہ افغان صدر اشرف غنی کی آمد بھی متوقع ہے۔

XS
SM
MD
LG