رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی وزیر خارجہ کی صدر زرداری اور وزیر اعظم سے ملاقاتیں


صدرآصف زرداری نے ایس ایم کرشنا سے ملاقات میں پاک بھارت انسداد دہشت گردی میکنزم تشکیل دینے کی تجویز دی

بھارتی وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا کے تین روزہ دورہ پاکستان کا پہلا روز اختتام کوپہنچا۔ وہ جمعہ کی دوپہر اسلام آباد پہنچے تھے۔ ان کی آج کی ملاقاتوں میں پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اہم ترین رہیں۔

صدرآصف زرداری نے ایس ایم کرشنا سے ملاقات میں پاک بھارت انسداد دہشت گردی میکنزم تشکیل دینے کی تجویز دی۔صدرکا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کیلئے دونوں ملکوں کے دفترخارجہ،داخلہ اورانٹیلی جنس ایجنسیوں کے نمائندوں پرمشتمل انسداد دہشت گردی میکنزم وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس موقع پر بھارتی وزیرخارجہ کا کہنا تھا بھارت پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات اورمشترکہ چیلنجز ومعاملات سے مل کر نمٹنے کاخواہاں ہے۔

صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق صدرمملکت کاکہناتھا کہ باہمی تجارت کے فروغ کیلئے سرمایہ کاروں کے وفود کے تبادلے ضروری ہیں۔دہشت گردی دونوں ممالک کی مشترکہ دشمن ہے۔ اس سے مشترکہ سطح پرنبردآزماہونا ضروری ہے۔ صورتحال نارمل رکھنے کے عمل کوپٹڑی سے نہیں اترنا چاہے۔

وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے جمعہ کو ہی وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف سے بھی ملاقات کی۔ وزیر اعظم نے ملاقات میں توقع ظاہر کی کہ بھارتی وزیرخارجہ کے دورہ پاکستان سے دو طرفہ تعلقات کو فروغ ملے گا۔ملاقات میں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود کشمیر،سیاچن اور سرکریک جیسے دیرینہ مسائل ہونے چاہئیں۔

وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے عوام کی خواہشات کے مطابق تعلقات کا استحکام چاہتے ہیں،تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لئے مثبت اپروچ کی ضرورت ہے۔ کرشنا نے وزیر اعظم سے ملاقات میں باہمی تجارت کو وسعت دینے اور ویزا پالیسی سمیت باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اس سے پہلے ایس ا یم کرشنا نے مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے بھارتی وزیر خارجہ کو تجویز دی کہ ویزا پالیسی میں نرمی لائی جائے اور اسلام آباد و نئی دہلی کے درمیان براہ راست پروازوں کا آغاز کیا جائے۔

ایم کیو ایم کے ایک وفد نے بھی بھارتی وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔وفد کی سربراہی ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹرفاروق ستار نے کی۔انہوں نے ممبئی اور کراچی میں قونصل خانے قائم کرنے اور ممبئی وکراچی کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کی تجویز پیش کی ۔

ایس ایم کرشنا کی مسلم لیگ قاف کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت میں کشمیر ، سرکریک ، سیاچن اور پانی کے مسائل پر تبادلہ خیال ہوا ۔ سیاسی رہنماؤں سے ملاقات میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ خیرسگالی کا پیغام لے کرپاکستان آئے ہیں۔ مستحکم پاکستان بھارت کے مفاد میں ہے۔

دریں اثناء بھارتی ہائی کمشنر کے عشایئے کے موقع پرایس ایم کرشنا کا کہناتھا کہ دوریاں کم ہورہی ہیں، بھارت اورپاکستان کشمی وسیاچن سمیت تمام معاملات پر کھلے دل سے بات چیت کررہے ہیں۔ ان کاپاکستان آنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ دونوں ملک قریب آرہے ہیں۔

ایس ایم کرشنا نے کہا کہ پاکستان اوربھارت کے در میان نئی ویزا پالیسی پراتفاق ہوچکاہے جس پرکل دستخط ہوں گے۔ نئی ویزا پالیسی کے مطابق دونوں ملک ویزاکے اجراء میں نرمی برتیں گے۔
XS
SM
MD
LG