رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں مقیم بھارتی لڑکی کی واپسی کے لیے کوششیں تیز


اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے ایک عہدیدار نے ’وی او اے‘ کو بتایا کہ بھارتی ہائی کمشنر ٹی سی اے راگھوان جلد ہی کراچی اس خاتون سے ملنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اسلام آباد میں تعینات بھارت کے سفیر سے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں گزشتہ 15 سال سے مقیم قوت سماعت اور گویائی سے محروم ایک بھارتی لڑکی کے کیس کا جائزہ لیں۔

اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے ایک عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بھارتی ہائی کمشنر ٹی سی اے راگھوان جلد ہی کراچی اس لڑکی سے ملنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس ضمن میں کوشش کی جا رہی ہے۔

سشما سوراج نے پیر کو سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر کہا کہ ’’میں نے پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر سے کہا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ اس لڑکی سے ملنے کراچی جائیں۔‘‘

انھوں نے یہ بات انسانی حقوق کے سرگرم پاکستانی کارکن انصار برنی کی ایک ٹویٹ کے جواب میں کی جنہوں نے حال ہی میں اس لڑکی کو بھارت میں اس کے اہل خانہ سے ملانے کی کوششیں دوبارہ شروع کی ہیں۔

سننے اور بولنے کی صلاحیت سے محروم ہونے کی وجہ سے اس لڑکی کا اصل نام کسی کو نہیں معلوم لیکن عبدالستار ایدھی کی اہلیہ بلقیس ایدھی، جن کے ساتھ وہ کراچی میں مقیم ہے، نے اس کا نام گیتا رکھا ہے۔

انصار برنی نے گیتا کو اس کے اہل خانہ سے ملانے کی کوششیں حال ہی میں ریلیز ہونے والی بالی وڈ فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ کی پاکستان اور بھارت میں مقبولیت سے متاثر ہو کر دوبارہ شروع کی ہیں۔

انصار برنی ٹرسٹ سے وابستہ شگفتہ برنی نے وی او اے کو بتایا کہ ان کے بھائی انصار برنی 2012 سے گیتا کو وطن واپس بھجوانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

’’اس وقت یہ بچی چھوٹی تھی، اب ماشا اللہ بڑی ہو گئی ہے۔ ’بجرنگی بھائی جان‘ فلم آئی تو اس کی کہانی بالکل گیتا کی کہانی ہے۔ اگر ہم سب متحد ہو جائیں تو ہو سکتا ہے کہ اس کے گھر والوں کا ہمیں پتا چل سکے۔‘‘

انصار برنی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ وہ تین سال قبل بھی گیتا کی تصویریں اور ویڈیو لے کر بھارت گئے تھے مگر اس کے خاندان کو تلاش کرنے میں ناکام رہے۔

شگفتہ برنی نے بتایا کہ ان کے فلاحی ادارے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹوں، فیس بک، ٹویٹر وغیرہ پر دوبارہ سرحد پار ایک مہم شروع کی ہے تاکہ گیتا کے خاندان کا پتا چلا کے اسے ان کے سپرد کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت گیتا کی عمر 21 سال کے لگ بھگ ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ لڑکی 15 سال قبل ریل گاڑی پر بھارت سے پاکستان کے شہر لاہور آئی تھی جس کے بعد اپنے اہل خانہ سے بچھر گئی۔ جب پاکستانی حکام کو اس کے بارے میں علم ہوا تو اُسے سرکاری ادارے میں بجھوا دیا گیا اور بعد میں کراچی منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ کھارادر میں ایدھی ہوم میں مقیم ہے۔

XS
SM
MD
LG