رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر میں تھانے پر فائرنگ


بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں جمعہ کو ایک پولیس سٹیشن پر مشتبہ علیحدگی پسندوں کے حملے میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

حکام اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے تھانے پر دستی بم پھینکنے کے بعد اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جن کی تلاش جاری ہے، اس حملے کی کسی گروپ نے تاحال ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

کافی عرصے تک پرامن رہنے کے بعد بھارتی کشمیر ایک بار پھر علیحدگی پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور ایک اندازے کے مطابق رواں سال کے پہلے مہینے میں اب تک آٹھ مشتبہ جنگجوؤں سمیت 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

گذشتہ ہفتے بھارتی سکیورٹی فورسز نے تقریباً 22 گھنٹوں پر محیط ایک طویل آپریشن کے بعد سری نگر کے ایک ہوٹل میں محصور دو مسلح عسکریت پسندوں کو ہلاک کر نے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کارروائی میں ایک پولیس اہلکار اور ہوٹل کےعملے کا ایک رکن ہلاک جب کہ ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ دو مسلح عسکریت پسندوں نے سری نگر کے مرکزی لال چوک میں ایک سکیورٹی پوسٹ پر دستی بم سے دھماکا کرنے کے بعد خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے قریب موجود نیو پنجاب ہوٹل خود کو محصور کر لیا تھا۔

دو کشمیری تنظیموں جمعیت المجاہدین اور حرکت الانصار نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں تین جنگجوؤں نے حصہ لیا اور اس کا مقصد بھارتی حکام کو یہ پیغام دینا تھا کہ ” کشمیر میں آزادی کے لیے مسلح جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی“۔

1947ء میں تقسیم ہند کے بعد کشمیر کے مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگیں لڑی جا چکی ہیں جب کہ گذشتہ دو دہائیوں سے بھارتی کشمیر میں شورش کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG