رسائی کے لنکس

پاکستانی فوج پر بھارتی سکیورٹی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہونے کا لزام


سری نگر میں سیکیورٹی فورسز اہل کاروں کے افراد خانہ کو جھڑپ کے دوران محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ 12 فروری 2018
سری نگر میں سیکیورٹی فورسز اہل کاروں کے افراد خانہ کو جھڑپ کے دوران محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ 12 فروری 2018

بھارت کی وزیر دفاع نِرملا سیتھا رمن نے حملے کے فوراً  بعد جموں کے اپنے دورے میں  کہا تھا کہ پاکستان کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہو گا۔

بھارتی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے الزام لگایا ہے کہ نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں فوج اور دوسرے حفاظتی دستوں کے کیمپوں اور تنصیبات پر کئے جانے والے حملوں میں پاکستانی فوج اہم اور بالواسطہ کردار ادا کررہی ہے۔

بھارتی بّری فوج کی شمالی کمان کے کماندڑ لیفٹننٹ جنرل دیو راج انبو نے بُدھ کو ادھمپور میں اس (شمالی کمان) کےصدر دفاتر پر ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ " جموں و کشمیر میں ہونے والے حملوں میں پاکستانی فوج کا براہ راست ہاتھ ہے"

پاکستان اس طرح کے الزامات کی بار ہا تردید کر چکا ہے۔

لیفٹننٹ جنرل انبو نے یہ بیان نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر کے سرمائی صدر مقام جموں میں واقع بھارتی فوج کے ایک اہم ٹھکانے پر اختتامِ ہفتہ ہونے والے ایک حملے کے پس منظر میں دیا ہے۔

اس حملے میں اور اس کے بعد حملہ آوروں اور بھارتی مسلح افواج کے درمیان تین دن تک جاری رہنے والے مسلح تصادم میں 6 بھارتی فوجی اور ایک شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ جب کہ تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس تصادم میں فوج کے ایک میجر سمیت 11 فوجی اہل کار اور ان کے اہل خانہ زخمی بھی ہوئے۔

بھارتی عہدیداروں نے حملے کے لئے عسکری تنظیم جیشِ محمد کو موردِ الزام ٹھہرایا تھا اور کہا تھا کہ چونکہ اس کی قیادت میں مفرور مولانا مسعود اظہر بھی شامل ہیں، جو پاکستان میں موجود ہے، اس لئے پاکستان اس واقعے میں ملوث ہے۔ جیشِ محمد نے تا حال اس بارے میں کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

بھارت کی وزیر دفاع نِرملا سیتھا رمن نے حملے کے فوراً بعد جموں کے اپنے دورے میں کہا تھا کہ پاکستان کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہو گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا بھارتی فوج پاکستان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی کرے گی اور اگر ہاں تو کب تو انہوں نے کہا تھا ۔’’ میں یقینی طور پر کسی ٹائم لائن کا تعین نہیں کروں گی لیکن یہ بتاؤں گی کہ پاکستان کو اس فعل کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ میں دہراتی ہوں پاکستان اس کی قیمت ادا کرے گا۔‘‘

اسلام آباد نے بھارتی الزام کے رد عمل میں کہا تھا کہ اگر بھارت نے کسی مِس ایڈونچر کا مظاہرہ کیا تو پاکستان کی طرف سے جوابی عمل اسی نوعیت کا ہوگا- نرملا سیتھا رمن کے پاکستانی ہم منصب خرم دستگیر خان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا۔ ’’ اگر بھارت نے کوئی غلط حرکت کی تو اس کا جواب اسی نوعیت کے اقدام سے دیا جائے گا۔ بھارت کی جارحیت، لشکر کشی کا غلط اندازہ یا مِس ایڈونچر چاہے یہ کسی بھی پیمانے کا ہو، اس کے لئے جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے یا جو بھی مقام چن لیا جائے سزا سے بچ نہیں سکتا۔ اس کا یکساں اور متناسب جواب دیا جائے گا۔‘‘

اس سے پہلے پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد فیصل کے دفتر سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ ایک طریقہ بن گیا ہے کہ اس طرح کے حملوں کی باقاعدہ تفتیش کے بغیر ہی ’’ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات دیے اور بے بنیاد الزامات لگا دیے جاتے ہیں‘‘۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کی بھارت کی طرف سے ایسے الزامات کا مقصد نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔

بدھ کو جب نامہ نگاروں نے لیفٹیننٹ جنرل انبو سے پوچھا کہ کیا بھارتی فوج جموں میں کئے گئے حملے کا بدلہ لے گی تو انہوں نے کہا۔ ’’لائن آف کنٹرول پر کام کرنا کافی پیچیدہ اور للکارنے والا ہے۔ مجھے نہیں لگتا ہمیں واقعتاً ادلے کا بدلہ چکانے کی ضرورت ہے۔ ہم حکمت عملی خود ترتیب دیتے ہیں اور ہم ایسا کرتے رہیں گےً۔

انہوں نے حد بندی لائن پر نافذ فائر بندی کی خلاف ورزیوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بھارتی فوج نے ان خلاف ورزیوں کے رد عمل میں 192 پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اس وقت تین سو سے زائد عسکریت پسند نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں در اندازی کرنے کے لئے حد بندی لائن کے پاکستانی علاقے میں انتظار کررہے ہیں۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے نوجوان تیزی کے ساتھ بندوق کی طرف مائل ہورہے ہیں ۔ اس پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا ۔’’ ہاں نوجوان عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں ۔ اس رجحان کی طرف توجہ دینا ہوگی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سوشل میڈیا عامل کا کردار ادا کررہا ہےً۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست میں سرگرم عسکری تنظیموں حزب المجاہدین، لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد میں مکمل ہم آہنگی ہے اور یہ مل کر بھی کارروائیاں کررہی ہیں۔

  • 16x9 Image

    یوسف جمیل

    یوسف جمیل 2002 میں وائس آف امریکہ سے وابستہ ہونے سے قبل بھارت میں بی بی سی اور کئی دوسرے بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نامہ نگار کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ انہیں ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں اب تک تقریباً 20 مقامی، قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا جاچکا ہے جن میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی طرف سے 1996 میں دیا گیا انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG