رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر میں پرتشدد مظاہرین پر فوج نے گولی چلا دی، دو افراد ہلاک


فائل فوٹو

یوسف جمیل

بھارتی فوج نے سنیچر کی شام کو نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان کے ایک دور دراز گاؤں میں ان نوجوانوں پر گولی چلا دی جو ان پر پتھراؤ کر رہے تھے،جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے۔

شوپیان میں گزشتہ بُدھ کو بھارتی حفاظتی دستوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں دو مقامی عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے۔ جھڑپ ہی کے دوران علاقے میں پرتشدد مظاہروں کے دوراں حفاظتی دستوں کی فائرنگ میں ایک مقامی نوجوان ہلاک اور دو لڑکیاں شدید زخمی ہوئی تھیں – ان واقعات کے بعد علاقے میں تناؤ کی صورتِ حال موجود ہے۔

مقامی لوگوں نے پولیس کو بتایا ہے کہ سنیچر کی صبح بھارتی فوج نے شوپیان کے گاؤں گناؤ پورہ میں داخل ہوکر دیواروں پر چسپان وہ پوسٹر پھاڑ ڈالے جن پر بُدھ کے روزکی جھڑپ میں مارے گئے مقامی عسکریت پسند فردوس احمد لون کی تعریفیں لکھی تھیں۔

شام کو جب فوج کی گاڑیوں کا ایک قافلہ گاؤں سے گزرنے لگا تو مشتعل نوجوانوں نے اس پر پتھراؤ کیا۔ گاڑیوں میں سوار فوجیوں نے جواباً گولی چلادی جس کے نتیجے میں گیارہ افراد زخمی ہوگئے۔ اس میں سے ایک اسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ گیا، جب کہ ایک اور زخمی اسپتال میں ہلاک گیا۔ شوپیان کے چیف میڈیکل آفیسر نے 20 سالہ جاوید احمد بٹ اور 24 سالہ سہیل جاوید لون کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے-

پولیس نے فوج کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔ بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیہ نے کہا کہ یہ پتا لگایا جارہا ہے کہ فوج نے کن حالات میں گولی چلائی تھی۔

بھارتی کنٹرول کے کشمیر کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار بصیر احمد خان نے بتایا کہ انہوں نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔ یہ تحقیقات شوپیان کے ڈپٹی کمشنر کر رہے ہیں جو 20 دن میں اسے مکمل کریں گے۔

استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے کشمیری قائدین کے ایک اتحاد 'مشترکہ مزاحمتی قیادت' نے بھارتی فوج پر کشمیر میں نسل کشی کرنے کا الزام دہراتے ہوئے شوپیان میں فائرنگ کے واقعے پر اتوار کے روز عام احتجاجی ہڑتال اور پُر امن مظاہرے کی اپیل کی ہے ۔

سرینگر میں عہدیداروں نے بتایا کہ اتوار کو گرمائی دارالحکومت سرینگر، شوپیان اور پلوامہ اضلاع میں حفظِ ماتقدم کے طور پر حفاظتی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

سرکردہ سیاسی اور مذہبی راہنما میرواعظ عمر فاروق نے سرینگر میں اپنے ایک بیان میں الزام لگایا۔" ٹریگر ہپی بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کو گولیوں کا نشانہ بنانا اب معمول بن گیا ہے۔ یہ شرمندگی کی بات ہے کہ بھارت کے انسانی حقوق کارکن اور تنظیمیں ، انسان دوست افراد اور سول سوسائٹی گروپس اس گشت و خون کے حوالے سے بہرے اور اندھے ہوگئے ہیں جبکہ حقوقِ بشر کے عالمی ادارے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔"

شام کو بھارتی فوج نے سرینگر میں ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیاہے کہ فوج نے اپنے بچاؤ میں گولی چلادی۔ بیان میں کہا گیا کہ"فوج کا ایک انتظامی کانوائے گناؤ پورہ گاؤں کے مرکزی چوراہے سے گزر رہی تھی کہ اس پر 100 سے 120 تک افراد پر مشتمل ہجوم نے بلا کسی اشتعال کے شدید پتھراؤ شروع کردیا- آنا" فانا" پتھراؤ کرنے والوں کی تعداد بڑھ کر اڑھائی سو تک پہنچ گئی ۔ مشتعل ہجوم نے چارفوجی گاڑیوں کو،جو باقی کاررواں سے الگ کھڑی تھیں گھیرے میں لےکر انہیں شدید نقصان پہنچایا اور آگ لگانے کی کوشش کی۔ کانوائے میں شامل ایک جونئیر کمشنڈ آفیسر کے سر میں چوٹ لگی اور وہ بے ہوش ہوگیا۔ مشتعل ہجوم نے اسے زد و کوب کرنے ، جان سے مار ڈالنے اور اس کا ہتھیار چھیننے کی کوشش کی"۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گھمبیر صورتِ حال کے پیشِ نظر فوج گولی چلانے پر مجبور ہوگئی۔ فوج نے اس واقعے میں سات سپاہیوں کے زخمی ہونے اور گیارہ گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچائے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG