رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی آئین کے تحت جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت عارضی نہیں، سپریم کورٹ


سری نگر میں کشمیری نوجوان پولیس پر پتھراؤ کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

بھارت کی عدالت عظمٰی نے کہا ہے کہ آئین ہند کی دفعہ 370 جس کےتحت ریاست جموں و کشمیر کو ہند یونین میں خصوصی آئینی پوزیشن حاصل ہے عارضی شق نہیں ہے۔ عدالت نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اگرچہ اس شق کو بھارت کے آئین میں ایک عارضی شق کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کے وجود نے ایک مستقل حیثیت حاصل کرلی ہے جس کے باعث اس کی منسوخی ناممکن بن گئی ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے نئی دہلی کی حکومت کو اس بارے میں اپنا جواب داخل کرانے کے لیے تین ہفتے کی مہلت دی ہے۔ اگرچہ عدالت عظمٰی کی طرف سے آئین کی شق 370 پر ظاہر کی گئی یہ محض ایک رائے یا مشاہدہ ہے نہ کہ فیصلہ، اس پر بھارت میں ایک نئی سیاسی ہلچل مچ گئ ہے۔

حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا یہ موقف رہا ہے کہ دفعہ 370 اور اس جیسے قوانین کو جو ریاست کے بھارت میں مکمل انضمام کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں منسوخ کیا جانا چاہیے۔ لیکن بی جے پی چونکہ ریاست کی مخلوط حکومت کا ایک حصہ ہے اس لئے حلیف جماعت علاقائی پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ساتھ طے پائے سمجھوتے کا لحاظ کرتے ہوئےدفعہ370 کو منسوخ کرانے کے اپنے مطالبے پر فی الحال زور نہیں دے رہی ہے۔

بھارت میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے سپریم کورٹ کی جانب سے دفعہ 370 کے بارے میں اظہارِ خیال کے بعد بی جے پی سے اپنا موقف واضح کرنے کے لیے کہا ہے۔ کانگریس پارٹی کے ایک سرکردہ لیڈر نے استفسار کیا 'اب جبکہ سپریم کورٹ کے مشاہدے کے بعد دفعہ 370 نے استحكام حاصل کرلیا ہے، کیا اب بھی بی جے پی اپنے موقف پر قائم ہے؟ ‘

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی وزیرِ اعلیٰ اور پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے سپریم کورٹ کے اس اہم رائے پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست کے عوام کو دی گئی ایک ایسی یقین دہانی ہے جس کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا۔ ’ دفعہ 370 نہ صرف ریاست جموں کشمیر کی علاقائی سالمیت کو تحفظ فراہم کرتی ہے بلکہ اس کی مذہبی، ثقافتی اور لِسانی سالمیت کو محفوظ رکھنے میں ایک بڑا رول ادا کرتی ہے‘۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی ابزرویشن، محبوبہ مفتی اور ان کی جماعت پی ڈی پی کے لیے ایک بڑی اعانت کے طور پر سامنے آئی ہے اوراس کے باعث اس ایک ایسے موقع پر کسی حد تک سیاسی سکون ملنے کی توقع ہے جب ریاست میں عسکریت پسندوں اور ان کے حامیوں کے خلاف حفاظتی دستوں کی طرف سے چلائی جانے والی سخت گیر فوجی مہم کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں پر عوام میں شديد غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

محبوبہ مفتی اور ان کی جماعت کو حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے اس لیے بھی نکتہ چینی کا ہدف بنایا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے اقتدار حاصل کرنے کے لیے ایک ایسی جماعت کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا جو ریاست کی خصوصي آئینی حیثیت کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ لیکن ریاست کے وزیرِ تعمیرات اور حکومت کے ترجمانِ اعلیٰ سید نعیم اختر نے اس طرح کی تنقید کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ۔’ ہمارے اور بی جے پی کے درمیان طے پائے سمجھوتے میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کی خصوصي آئینی پوزیشن کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی۔ یہ ہمارے ایجنڈا آف الائنس میں تحریری طور پر درج ہے۔ ہم اس وعدے پر قائم ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ۔’ سپریم کورٹ کی ابزرویشن ایک خوش آئند قدم ہے ۔ اس سے ریاست میں کی جارہی قیامِ امن کی کوششوں میں مدد ملے گی‘۔

کشمیری جماعتوں جن میں استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتیں بھی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ دفعہ 370 اور دفعہ 35اے کو، جس کے تحت جموں کشمیر کے پشتنی باشندوں کا انتخاب کرنے اور ان کے لئے خصوصی حقوق اور استحقاق کا تعین کرنے کا اختیار ریاستی قانون ساز اسمبلی کو حاصل ہے، کو منسوخ کرانے کے مطالبے کے پیچھے مسلم اکثریتی ریاست کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے راہ ہموار کرنے کی سوچ کار فرما ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG