رسائی کے لنکس

logo-print

عسکریت پسندوں سے روابط کا الزام، بھارتی کشمیر کا پولیس آفیسر گرفتار


بھارتی کنٹرول کے کشمیر میں پولیس اہل کار سری نگر کے اس علاقے میں گشت کر رہے ہیں جہاں ایک بارودی دھماکہ ہوا تھا۔ 4 جنوری 2020

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس نے پیر کو دارالحکومت سری نگر میں اپنے ایک سینئر افسر کے گھر پر تین دن میں دوسری مرتبہ چھاپہ مار کر مبینہ طور پر کئی اہم دستاویزات اور دوسرا مواد ضبط کر لیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ضبط کیے گیے مواد کا باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیا جائے گا۔

پولیس افسر دیویندر سنگھ کو پویس کی ایک ٹیم نے جس کی قیادت ڈپٹی انسپکٹر جنرل (جنوبی کشمیر) اتُل گوئل کر رہے تھے، اختتامِ ہفتہ حفاظتی دستوں کو انتہائی مطلوب کشمیری عسکری کمانڈر سید نوید مشتاق عرف نوید بابو عرف بابر اعظم اور اُس کے قریبی ساتھی آصف احمد راتھر کے ساتھ اُس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ تینوں ایک نجی کار میں مبینہ طور پر وادئ کشمیر سے دِلّی کی جانب سفر کر رہے تھے۔

اس کار کو پولیس کی ایک پارٹی نے سری نگر-جموں شاہراہ پر ونپوہ- میر بازار کے مقام پر روک لیا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق نوید بابو اور اُس کے ساتھی کے بارے میں دِلّی کی طرف روانگی کے متعلق نوید اور اُس کے بھائی کے درمیان موبائل فون پر ہونے والے گفتگو کو ریکارڈ کرنے کے دوران پتا چلا۔

دیویندر سنگھ کا افضل گرو سے مبینہ تعلق

دیویندر سنگھ جو سری نگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اینٹی ہائی جیکنگ اسکارڈ میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت سے تعینات تھے، وہی پولیس افسر ہیں جن کے بارے میں 13 دسمبر 2000 کو نئی دہلی میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں مجرم قرار دیے گیے سابق کشمیری عسکریت پسند محمد افضل گورو نے اپنی وکیل کے نام لکھے گیے خط میں کہا تھا کہ انہوں نے اُنہیں یعنی افضل گورو اور ایک اور ملزم محمد کو حملے سے پہلے کشمیر سے نئی دہلی جانے اور وہاں اُس کے قیام و طعام کا بندوبست کرنے پر مجبور کیا تھا۔ افضل گورو کو 9 فروری 2013 کو دِلّی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔

پولیس نے بتایا ہے کہ دیویندر سنگھ ہفتے کو ڈیوٹی سے غیر حاضر تھے اور انہوں نے اتوار 12 جنوری سے چار دن کے لیے چھٹی لے رکھی تھی۔ وہ اور اُن کے ہمراہ سفر کرنے والے مشتبہ عسکریت پسند دِلّی کس لیے جا رہے تھے؟ اب اس کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

گاڑی سے دستی بموں کی برآمدگی

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ تینوں جس موٹر کار میں سفر کر رہے تھے، اُس میں سے پانچ دستی بم برآمد کیے گیے۔ بعد میں سری نگر کے ہائی سیکیورٹی علاقے شیو پورہ میں واقع پولیس افسر کے گھر سے مبینہ طور پر ایک اے کے 47 بندوق اور دو پستول برآمد کیے گیے۔ اس کے علاوہ پولیس کو مبینہ طور پر عسکری کمانڈر نوید بابو کی نشاندہی پر جنوبی کشمیر میں عسکریت پسندوں کی ایک کمین گاہ سے ایک اور اے کے بندوق ملی۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ نوید بابو پہلے پولیس میں ایک اسپیشل افسر کی حیثیت سے کام کرتا تھا، لیکن 2017 میں بھگوڑہ ہو کر بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں سرگرم سب سے بڑی مقامی عسکری تنظیم حزب المجاہدین میں شامل ہو گیا تھا ۔ وہ دہشت گردی کے کئی واقعات میں بھی ملوث رہا ہے جن میں غیر ریاستی مزدوروں، ٹرک ڈرائیوروں اور میوہ تاجروں سمیت گیارہ شہریوں اور چند پولیس اہل کاروں کو قتل کرنا بھی شامل ہے۔

صدارتی میڈل یافتہ پولیس آفیسر دہشت گرد نکلا

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے اتوار کو سری نگر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پولیس افسر دیویندر سنگھ نے اُن کے بقول ایک گھناؤنا جرم کیا ہے اور پولیس انہیں ایک دہشت گرد سمجھتی ہے اور ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کر رہی ہے جو ایک دہشت گرد کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

انہوں نےکہا کہ مقامی پولیس اور اس کی سی آئی ڈی ونگ کے ساتھ ساتھ بھارت کی دو بڑی انٹلی جینس ایجنسیاں- را اور انٹیلیجنس بیورو – اس پولیس افسر سے تفتیش کر رہی ہیں۔

جب نامہ نگاروں نے اُن سے افضل گورو کے دعوے کے بارے میں پوچھا تو انسپکٹر جنرل نے کہا "ہم اس بارے میں دیویندر سنگھ سے دریافت کر لیں گے۔"

ایک صحافی نے پولیس سربراہ کو بتایا کہ دیویندر سنگھ نے کچھ عرصہ پہلے اُسے دیے گیے ایک انٹرویو کے دوران یہ اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے افضل گورو کو حراست کے دوراں اذیتیں دی تھیں اور یہ کہا تھا کہ مزید تشدد سے بچنے کے لیے وہ ایک آخری کام کریں جو انہوں نے کیا۔ لیکن انسپکٹر جنرل نے اس بارے میں کوئی رائے ظاہر نہیں کی البتہ یہ دہرایا کہ پولیس دیویندر سنگھ سے افضل گورو کے دعوے کے بارے میں باز پرس کرے گی۔

دیویندر سنگھ نے کئی سال بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس کی عسکریت مخالف اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) میں کام کیا تھا اور انہیں ان کی "خدمات" کے اعتراف میں بھارتی صدراتی میڈل بھی دیا گیا تھا۔

کیا دیویندر سنگھ نے افضل گرو کو پارلیمںٹ حملے میں پھنسایا

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر اور اس کے باہر بھی کئی لوگوں کا اصرار ہے کہ افضل گورو کو بھارتی پارلیمنٹ پر کیے گیے حملے کے کیس میں پھنسایا گیا تھا۔ اس سلسلے میں پولیس افسر دیویندر سنگھ کے رول کے بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں۔

افضل گورو کے اہلِ خانہ، وکلاء اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں یہ بھی کہتی ہیں کہ افضل گورو کو عدالت سے انصاف نہیں ملا۔

واضح رہے دیویندر سنگھ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی انتظامیہ اور پولیس کے اُن افسران میں شامل ہیں، جنہوں نے گزشتہ ہفتے نئی دہلی میں تعینات 15 ممالک کے اعلیٰ سفارت کاروں کا، جن میں امریکہ کے سفیر کینتھ اے جسٹر بھی شامل تھے سری نگر کے ہوائی اڈے پر استقبال کیا تھا۔ یہ سفارت کار علاقے کی صورتِ حال کا موقعے پر جائزہ لینے کے لیے سری نگر گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG