رسائی کے لنکس

logo-print

'بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں حالات بالکل نہیں بدلے'


بھارتی وزیر داخلہ، امیت شاہ (فائل)

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے اتحاد، جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی (جے کے سی سی ایس) اور لاپتا کیے گیے افراد کے والدین کی تنظیم ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپئرڈ پرسنز (اے پی ڈی پی) نے بھارت کے وزیرِ داخلہ امیت شاہ کے دعوے کو غیر درست قرار دیا ہے کہ پانچ اگست کے اقدام کے بعد علاقے میں حالات پرامن رہے ہیں۔

امیت شاہ نے کہا تھا کہ پانچ اگست کے اقدام کے تحت ریاست کی آئینی نیم خود مُختاری کو ختم کرکے اور اسے دو حصوں میں تقسیم کرکے براہِ راست وفاق کے کنٹرول میں لانے کے بعد علاقے میں حالات پُرامن رہے اور کوئی شخص پولیس فائرنگ میں نہیں مارا گیا۔

'گولی چلی اور نہ کوئی مارا گیا'

امیت شاہ نے حال ہی میں بھارتی پارلیمان میں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کی طرف سے کی جانے والی نکتہ چینی کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ "جموں و کشمیر بالخصوص وادی کشمیر میں حالات بالکل پُرامن ہیں۔ 5 اگست کے بعد پولیس کی گولی سے ایک بھی شخص نہیں مارا گیا"۔

لیکن، جے کے سی سی ایس اور اے پی ڈی پی نے 2019 میں جموں و کشمیر میں پائی جانے والی انسانی حقوق کی صورتِ حال پر جو سالانہ رپورٹ جاری کی ہے اُس میں کہا گیا ہے کہ 5 اگست کے بعد علاقے میں کم سے کم چھہ شہری حفاظتی دستوں کے ہاتھوں مارے گیے۔ اس کے علاوہ، چودہ غیر مقامی افراد کو نامعلوم مسلح افراد نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ان میں مزدور، ڈرائیور اور میوہ تاجر شامل تھے اور یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ریاست میں غیر مقامی افراد کو اس طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

تشدد اور ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2019 میں ریاست میں تشدد کا رحجان بالکل ویسا ہی رہا جیسا گزشتہ ایک دہائی کے دوراں مشاہدے میں آیا تھا۔ اس سال تشدد کے مختلف واقعات میں 368 افراد مارے گیے جن میں بارہ خواتین سمیت کم سے کم اسی شہری شامل تھے اور ان میں سے کئی ایک ماورائےعدالت قتل کیے گیے۔ ہلاک ہونے والوں میں 159 مشتبہ عسکریت پسند اور 129 فوجی اور دوسرے حفاظتی اہلکار تھے۔

رپورٹ کے مطابق، ہلاک ہونے والے 80 شہریوں میں سے 19 کو حفاظتی دستوں نے، 28 کو نامعلوم مسلح افراد نے اور چھہ کو عسکریت پسندوں نے ہلاک کیا، جبکہ 7 افراد بم دھماکوں میں مارے گیے۔ ایک شخص سنگباری کے ایک واقعے میں اور ایک اور (غیر ریاستی باشندہ) عسکریت پسندوں اور حفاظتی دستوں کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ باقی ماندہ افراد متنازع کشمیر کو تقسیم کرنے والی حد بندی لائین پر بھارت اور پاکستان کی افواج کے درمیان فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات میں لقمہ اجل بن گیے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے "ہم حد بندی لائین میں پیش آنے والے فائرنگ اور شیلنگ کے واقعات میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد معلوم نہیں کر سکے"۔

بچوں کو ایذا رسانی کا شکار بنایا گیا

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی ہی کی طرح 2019 میں بھی بچے تشدد کا شکار بنے اور کم سے کم آٹھ بچے مارے گیے۔ "وہ ماورائے عدالت قتل ہوئے اور غیر قانونی اور بے جا قید بھی کیے گیے۔ ان کے ساتھ آرمڈ فورسز نے نظربندی کے دوران ناروا سلوک بھی کیا جس میں ایذا رسانی بھی شامل ہے"۔

رپورٹ کے مطابق، 2019 میں چھرے والی بندوقوں کا استعمال جاری رہا۔ اس ہتھیار کو بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں عوامی مزاحمت کو دبانے کے لیے پہلی بار 2010 میں استعمال کیا گیا تھا، جیسا کہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے 2019 میں بھارتی مسلح دستوں کی طرف سے ضرورت سے زیادہ طاقت، خاص طور پر پیلٹ اور ٹیرگیس کے استعمال کے نتیجے میں چھہ افراد مارے گیے۔

'آپریشن آل آؤٹ' بند نہیں ہوا

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارتی حفاظتی دستوں نے 2017 میں عسکریت پسندوں کے خلاف شروع کیے گیے 'آپریشن آل آؤٹ' کو 2019 میں جاری رکھا۔ چنانچہ، ریاست کے مختلف حصوں میں طرفین کے درمیان ان گنت مقابلے پیش آئے اور نتیجتاً متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔ "2019 میں جموں و کشمیر میں87 انکاؤنٹرس پیش آئے جن میں 150 عسکریت پسند اور ریاستی پولیس اور بھارتی مسلح دستوں کے 29 اہلکار مارے گیے"۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’2019 میں اس طرح کے آپریشنز کے دوران بارہا انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات پیش آئے جن میں حفاظتی دستوں کی طرف سے عام شہریوں کو ہراسان اور قید کرنا، خواتین کے ساتھ دست درازی کرنا اور طاقت کا بے جا اور بے دریغ استعمال اور شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچانا شامل ہیں‘‘۔

گرفتاریوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ

بھارتی حکومت نے 20 نومبر کو نئی دہلی میں پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ 5 اگست کے بعد جموں و کشمیر میں 5161 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ لیکن، ان میں سے صرف 609 افراد ہنوز نظربند ہیں اور باقیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔ اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ کتنے لوگوں کو بدنامِ زمانہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق، جے کے سی سی ایس اور اے پی ڈی پی کی طرف سے جموں و کشمیر ہائی کورٹ رجسٹری سے حاصل کیے گیے اعداد و شمار کے مطابق، عدالتِ اعظمیٰ میں 2019 میں دائر کی گئی حبسِ بے جا کی 662 تازہ درخواستوں میں سے 412 کو 5 اگست کے بعد دائر کیا گیا، جن میں اس قانون کے تحت عمل میں لائی گئی گرفتاریوں کو چیلیج کیا گیا۔

آٹھ ہزار لاپتا افراد کے کنبوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوراں لاپتا کیے گیے آٹھ ہزار سے زائد افراد کا ہنوز کوئی پتا نہیں اور نتیجتاً ان کے افرادِ خانہ مسلسل تکالیف اٹھا رہے ہیں اور حکومت اور اس کے ادارے انہیں کسی بھی قسم کی راحت پہنچانے میں ناکام ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں نہ ہی کوئی تحقیقات کی گئی ہے اور نہ حکومت نے کوئی ایسی پالیسی متعارف کرائی ہے جو شہریوں کو لاپتا کیے جانے والے ان واقعات کے پیچھے پوشیدہ سچ کو آشکارا کرتی یا ان کے کنبوں کے دکھوں کا مداوا بن جاتی۔

5 اگست کا یکطرفہ فیصلہ

رپورٹ 5 اگست کو جموں و کشمیر کی آئینی نیم خود مختاری کو ختم کرنے اور ریاست کو تقسیم کرنے کےبھارتی حکومت کے اقدام کو ’’تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش واقعہ‘‘ قرار دیتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’اتنا ہی نہیں کہ بھارتی حکومت نے ریاستی عوام یا ان کے نمائندوں کو ایک ایسے اقدام کے سلسلے میں اعتماد میں نہیں لیا، جسے وہ جموں و کشمیر کے مستقبل کے لیے فائدہ مند قرار دیتی ہے، بلکہ اس کی پوری قیادت کو جس میں بھارت نواز اور مسئلہ کشمیر کے حل کی طالب قیادت دونوں شامل ہیں، پابندِ سلاسل کر دیا‘‘۔

اس اقدام کے ساتھ ہی، رپورٹ کے مطابق، ’’ریاست کو فوجی محاصرے میں لیا گیا اور ریاست بالخصوص وادی کشمیر میں سڑکوں، گلی کوچوں اور تمام بڑے شہروں اور قصبہ جات میں ایک لاکھ فوجی اور دوسرے حفاظتی اہلکار بٹھادیے گیےجنہوں نے سخت گیر کرفیو اور دوسری قدغنیں عائد کیں اور اس کے ساتھ ہی ایک مکمل مواصلاتی بلیک آؤٹ نافذ کیا گیا‘‘۔

ذرائع ابلاغ کو دباؤ کا سامنا

رپورٹ میں کہا گیا کہ’’2019 میں بھارتی زیرِ انتظام کے ذرائع ابلاغ اور ان سے وابستہ افراد مسلسل دباؤ، دھونس اور تنگ طلبی کا سامنا کرتے رہے، کئی صحافیوں کو مارا پیٹا گیا اور متنازعہ معاملات پر خبریں لکھنے اور بھیجنے کی پاداش میں بدلے کی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگوں کی مذہبی آزادی کو سلب کرنے کے واقعات بھی پیش آئے جس کی ایک مثال سرینگر کی جامع مسجد میں مسلسل 24 جمعے کے اجتماعات کے انعقاد پر پابندی عائد کرنا ہے، بلکہ اس تاریخی عبادت گاہ کو 5 اگست سے 18 دسمبر تک مقفل رکھا گیا‘‘۔

پولیس کیا کہتی ہے؟

تاہم، بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے پولیس سربراہ دلباغ سنگھ کا کہنا ہے کہ ریاست میں 2019 میں گزشتہ چند برسوں کے مقابلے میں تشدد کے کم واقعات پیش آئے۔ انہوں نے کہا کہ گزرے سال کے دوران حفاظتی دستوں نے 160 عسکریت پسندوں کو ہلاک اور 102 کو گرفتار کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2019 میں مقامی نوجوانوں کی انتہائی قلیل تعداد عسکریت کی طرف مائل ہوگئی۔ تاہم، ان کے بقول، ریاست میں اس وقت 250 کے قریب عسکریت پسند سرگرم ہیں۔

دلباغ سنگھ نے بتایا کہ ان میں سے 218 نوجوان 2018 میں عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوگیے تھے۔ اگرچہ مزید 139 نے 2019 میں بندوق اٹھائی ان میں سے صرف 89 ابھی زندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "باقیوں کا کام ہم نے ان کی طرف سے عسکری تنظیموں میں شامل ہونے کے 24 گھنٹے سے دو تا تین ہفتے کے اندر اندر تمام کر دیا"۔

پولیس سربراہ نے کہا کہ "پرانے دہشت گردوں" میں صرف چند ایک ہی بچے ہیں، جن میں جہانگیر سروری اور ریاض نائکو قابلِ ذکر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "جیسا کہ میں نے بتایا ملیٹنسی سے جڑے واقعات میں تیس فیصد اور امن و قانون کے واقعات میں 36 فیصد کمی آگئی۔ 2018 میں پیش آئے امن و قانوں کے 625 کے مقابلے میں 2019 میں صرف 481 واقعات پیش آئے"-

انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں کے واقعات کے بارے میں پوچھے گیے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پولیس اور دوسرے حفاظتی دستوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ عسکریت پسندوں، بلوائیوں، سنگبازوں اور دوسرے شر پسند عناصر کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کو کسی طرح کا نقصان نہ اٹھانا پڑے اور اگر کہیں پر کوئی نادانستہ یا دانستہ چوک ہوجاتی ہے یا ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کا واقعہ پیش آتا ہے تو ملوث اہلکاروں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG