رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر میں علیحدگی پسند راہنماؤں کی پکڑ دھکڑ


پھارتی کشمیر میں پولیس علیحدگی پسند کشمیری راہنماؤں کو پکڑ کر لے جا رہی ہے۔ (تصاویر حبیب اللہ نقش) 16 مارچ 2017

اب ایک طرف جہاں بھارت نواز جماعتیں ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کی لئے متحرک ہوگئی ہیں وہیں دوسری جانب استصوابِ رائے کا مُطالبہ کرنے والی جماعتوں نے انتخابی بائیکاٹ کے لئے لوگوں کو منظم کرنے کی کوشیش شروع کردی ہیں۔

یوسف جمیل

بھارت کے الیکشن کمیشن نے گزشتہ دنوں یہ اعلان کیا تھا کہ نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں کئی ماہ سے خالی پڑی بھارتی پارلیمان کی دو نشستوں کے لئے اگلے ماہ انتخابات کرائے جائیں گے۔ ان میں ایک نشست اننت ناگ کی ہے جہاں موجودہ حکمران جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یا پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے 2014 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن اپنے والد مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد جب وہ اُن کی جگہ وزیرِ اعلیٰ بنیں تو آئینی تقاضہ پورا کرنے کے لئے اُنہیں بھارتی پارلیمان سے مستعفیٰ ہونا پڑا۔

دوسری نشست جس پر ضمنی انتخاب ہورہا ہے سرینگر کی نشست ہے جو مقامی سیاسی منظر نامے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ یہاں سے پی ڈی پی ہی کے طارق حمید قرہ جیت گئے تھے لیکن انہوں نے اپنی پارٹی کی طرف سے متضادسیاسی نظریات رکھنے والی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ملکر مخلوط حکومت بنانے کے خلاف نہ صرف اپنی پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلی بلکہ احتجاجاً پارلیمان کی نشست سے بھی استعفیٰ دیدیا۔

فوٹوگرافروں پر پولیس تشدد
فوٹوگرافروں پر پولیس تشدد

اب ایک طرف جہاں بھارت نواز جماعتیں ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کی لئے متحرک ہوگئی ہیں وہیں دوسری جانب استصوابِ رائے کا مُطالبہ کرنے والی جماعتوں نے انتخابی بائیکاٹ کے لئے لوگوں کو منظم کرنے کی کوشیش شروع کردی ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ بھارتی آئین کے تحت ہونے والے انتخابات استصواب رائے یا رائے شماری کا متبادل نہیں ہو سکتے ہیں جس کا اقوامِ متحدہ نے کشمیری عوام سے وعدہ کر رکھا ہے۔

پولیس نے انتخابی بائیکاٹ منظم کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاون شروع کردیا ہے۔

جمعرات کو تین سرکردہ آزادی پسند لیڈروں سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے آپسی صلاح مشورہ اور انتخابات کے حوالے سے حکمتِ عملی کو آخری شکل دینے کے لئے سید گیلانی کے گھر پر ملاقات کرنے کا پروگرام بنایا تھا لیکن پولیس نے یہ ملاقات ناکام بنادی اور جب ان لیڈروں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔

پولیس تشدد کے خلاف صحافیوں کا احتجاج
پولیس تشدد کے خلاف صحافیوں کا احتجاج

اس موقع پر پولیس اس وقت ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر ٹوٹ پڑی جب فوٹو گرافروں نے نزدیک جاکرپولیس ایکشن کی تصویریں لینے کی کوشیش کیں۔

ایک تصویر جس میں ایک پولیس والے کو بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے فوٹو گرافر توصیف مصطفےٰ کو گلے سے پکڑتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔ پولیس کی طرف سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر کئے گئے حملے پرجہاں مقامی اور غیر مقامی صحافتی انجمنوں کی طرف سے شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے وہیں خود سرینگر میں مقیم پریس فوٹو گرافروں اور ذرائع ابلاغ کے دوسرےنمائندوں نے ایک احتجاجی مظاہرے میں حصہ لیا۔

نئی دہلی کی زیرِ انتظام کشمیر میں 27 برس پہلے شروع ہوئی مسلح تحریک اور شورش سے اب تک ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر تنازعہ سے وابستہ مختلف جماعتوں کی طرف سے جن میں حفاظتی ایجنسیاں، عسکریت پسند اور پاھنڈی یا بھگوڑے جو مقامی اصطلاح میں نابدی یا اخوانی کہلاتے ہیں سب شامل ہیں کئی حملے ہوئے ہیں یا ان پردباؤ ڈالنے کی دانستہ کوشیش کی گئی ہیں۔ اس دوران ایک درجن سے زیادہ صحافی قتل کئے گئے لیکن تا حال ایک بھی واقعہ میں قصور واروں کو سزا نہیں دی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG