رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کے یومِ جمہوریہ بھارتی کنٹرول کے کشمیر میں ہڑتال اور گرفتاریاں


بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر سری نگر میں ہڑتال رہی اور نوجوانوں کی ٹولیوں نے مظاہرے کیے۔

یوسف جمیل

بھارت ہر سال 26 جنوری کو اپنا یومِ جمہوریہ مناتا ہے۔ اس دن کی اہمیت یہ ہے کہ بھارت کی دستور ساز اسمبلی نے 26 جنوری 1950 کو ایک نئے دستور کی منظوری دی تھی جس کے ساتھ ہی ملک میں جمہوری طرزِ حکومت کا آغاز ہوا۔

نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر میں اس موقع پر عام ہڑتال کی گئی اور کئی حصوں میں احتجاجي مظاہرے ہوئے جس سے کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔

اس موقع پر تشدد کے معمولی واقعات بھی پیش آئے۔

یومِ سیاہ منانے کی اپیل استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں نے کی تھی-اس کا دفاع کرتے ہوئے سرکردہ آزادی پسند لیڈر محمد یاسین ملک نے کہا-” بھارت کے یومِ جمہوریہ کو یومِ سیاہ کے طور پر منانا ہمارا حق ہے۔ کیونکہ بھارت نے ہمارے جمہوری حقوق کو سلب کر رکھا ہے۔ یہ بھارت ہی ہے جس نے یہ وعدہ کیا تھا کہ ہمیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا-لیکن ہمیں آج تک یہ موقع فراہم نہیں کیا گیا ہے"۔

یومِ جمہوریہ کے موقع پر پوری ریاست میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ بالخصوص حساس علاقوں میں جن میں گرمائی دارالحکومت سرینگرکا پرانا حصہ بھی شامل ہے، مسلح پولیس اور نیم فوجی دستوں نے کرفیو جیسی پابندیاں عائد کرکے لوگوں کی نقل وحرکت روک دی – تاریخی جامع مسجد کے صدر دروازے پر ایک مرتبہ پھر تالا لگادیا گیا اور یہ پورا علاقہ فوجی چھاؤنی کی طرح لگ رہا تھا۔

جمعرات کی شام کو ہی موبائل انٹرنیٹ سروسز کو بند کیا گیا تھا جبکہ جمعہ کو نصف دن تک موبائل فون بھی بند رہے

اس سے پہلے استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کے قائدین اور سرکردہ کارکنوں کو ان کے گھروں میں نظر بند کیا گیا تھا یا پولیس انہیں پکڑ کر لی گئی

عہدیدار وں نے بتایا کہ تشدد کے خدشے کے پیش نظر اور مظاہروں کو روکنے کے لئے ایسا کرنا ناگزیر تھا۔

پولیس نے بتایا کہ اس نے بھارتی صوبے مہاراشٹر کی ایک 18 سالہ خاتون کو حراست میں لے لیا ہے جس کے بارے میں اسے یہ اطلاع ملی تھی کہ وہ کشمیر میں بھارت کے یومِ جمہوریہ پر خود کش حملہ کرنے والی ہے۔ تاہم انسپکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد خان نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ اطلاع صحیح تھی یا غلط اس کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

پولیس ذرائع نے حراست میں لی گئی خاتون کی شناخت سعدیہ شیخ کے طور پر کی ہے جس کا تعلق مہاراشٹر کے علاقے پونے (پونہ) سے ہے۔ اس کے ہمراہ کشمیر آئے ہوئے ایک اور شخص سے بھی پولیس پوچھ گچھ کررہی ہے۔

مسلم اکثریتی وادئ کشمیر میں یومِ جمہوریہ کی سب سے بڑی روایتی تقریب سرینگر کے امر سنگھ کلب گراونڈس میں منعقد ہوئی۔ پریڈ پر سلامی ریاست کے وزیرِ مال عبد الرحمٰن ویری نے لی اور اس موقع پر سرکاری عہدیدار اور پولیس اور دوسرے حفاظتی دستوں کے افسران موجود تھے ۔ تقریب میں عام لوگوں شریک نہیں ہوئے۔

تاہم یوم جمہوریہ پر ریاست کے سرمائی دارالحکومت جموں میں جش کا سماں تھا۔ جہاں کے مولانا آزاد اسٹیدیم میں ہونے والی پریڈ کی سلامی گورنر نریندر ناتھ وہرا نے لی ۔ تقریب میں وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی شرکت کی۔ حکومت کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ریاست کے لداخ خطے میں بھی بھارت کے یومِ جمہوریہ کو جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا-عہدیدار وں نے یہ بھی بتایا کہ تمام خدشات کے برعکس یہ دن پُر امن طور پر گزرا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG