رسائی کے لنکس

کشمیری سیاسی قیادت کا بھارتی وزیر اعظم کے بیان کا خیرمقدم


بھارتی یوم آزادی پر سری نگر میں پولیس کی پریڈ۔ 15 اگست 2017

صوبائی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی بھارتی وزیرِ اعظم کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو صرف پُر امن طور پر افہام و تفہیم کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔

یوسف جمیل

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی سیاسی قیادت نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو گولی یا گالی سے نہیں بلکہ اس کے عوام کو گلے لگانے سے حل کیا جاسکتا ہے۔ منگل کو بھارت کے یومِ آزادی کے موقعے پر دِلی کے لال قلعے سے اپنے روایتی خطاب میں وزیرِ اعظم نے کہا ۔ "نہ گولی سے، نہ گالی سے ۔ کشمیر کی سماسیا (مسئلہ) سلجھے گی گلے لگانے سے"۔

سرکردہ کشمیری سیاسی اور مذہبی راہنما میرواعظ عمر فاروق نے وزیرِ اعظم کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے سماجی ویب سائٹ ٹویٹر کام پر لکھا – " خیر مقدم۔ نریندر مودی بھی سمجھتے ہیں گولی اور گالی کشمیر کے مسئلے کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہوسکتیں۔ اگر انسانیت اور انصاف ان کی جگہ لیتے ہیں توحل ایک حقیقت بن جائے گا" ۔

بعد میں میرواعظ عمر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی طور پر بھارتی وزیرِ اعظم نے آج جو کہا ہے کہ گولی یا گالی سے بات نہیں بنے گی وہ صحیح ہے۔ ہم طویل عرصے یہ کہتے چلے آئے ہیں کی کشمیر کا مسئلہ سیاسی نوعیت کا ہے اور اسے طاقت ، تشدد اور فوجی قوت سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہم یہی توقع رکھتے ہیں کہ اگر انسانی اقدار کا خیال رکھتے ہوئے اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اسے حل کرنے کے لئے تمام فریقین کے درمیان ٹھوس بات چیت شروع کی جاتی ہے تو آگے بڑھنے کے لئے راہ ہموار ہو جائے گی"

صوبائی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی بھارتی وزیرِ اعظم کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو صرف پُر امن طور پر افہام و تفہیم کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ سرینگر میں بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر منعقدہ ایک پریڈ پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے15 سال پہلے یہ نعرہ لگایا تھا – "بندوق سے نہ گولی سے ؛ بات بنے گی بولی سے'- انہوں نے کہا یہ نعرہ آج بھی اُتنا ہی اہم اور بَرمحل ہے جتنا اس وقت تھا۔

انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ بحال ہوگا اور کشمیر اور دوسرے دو طرفہ مسائل اور امورات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی سنجیدہ اور پُرخلوص کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اگر امریکہ جیسا بڑا اور طاقتور ملک شمالی کوریا کے ساتھ معاملات کو ڈائیلاگ کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے تو بھارت اور پاکستان کو کون سی چیز ایسا کرنے سے روک رہی ہے۔

بھارتی وزیر اعظم کے کشمیر پر تازہ بیان کا سابق وزیر اعلیٰ اور حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت نیشنل کانفرنس کے کار گزار صدر عمر عبد اللہ نے بھی خیر مقدم کیا۔ لیکن انہوں نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ بیان بازی کی نہیں بلکہ ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا –" کشمیر پر وزیرِ اعظم مودی کے الفاظ کا لوگوں نے خیر مقدم تو کیا ہے لیکن یہاں ہر ایک اس طرح کی بیان بازی سے اکتا گیا ہے کیونکہ ٹھوس اقدامات کہیں نظر نہیں آ رہے ہیں۔ مٹھائی کی عمدگی کی دلیل اس کے کھانے میں ہے- ہمیں تفہیم ، قبولیت اور احترام کی گرم گرفت کے ساتھ گلے لگائے جانے کا انتظار رہے گا"-

استصواب رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری جماعتوں نے بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کے لئے کہا تھا۔ چنانچہ منگل کو مسلم اکثریتی وادی کشمیر میں ایک عام ہڑتال کی گئی اور بعض مقامات پر جمع لوگوں کی طرف سے بھارت کے خلاف نعرے لگائے گئے – صوبائی اسمبلی کے ایک آزاد ممبر اور علاقائی عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجنیئر رشید نے سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں جہاں بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر سب سے بڑی سرکاری تقریب ہو رہی تھی سیاہ جھنڈا لہرانے کے لئے وہاں کا رخ کیا تو پولیس نے انہیں اور ان کے ساتھیوں پر بانس کے ڈنڈے چلانے کے بعد ان کو حراست میں لے لیا۔ بھارت کے یوم آزادی پر اس کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی مظاہروں اور عسکریت پسندوں کے ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیشِ ِ نظر غیر معمولی حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG