رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر: ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہو گئی، صورت حال بدستور کشیدہ


سری نگر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پیر کو جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور انٹرنیٹ تک رسائی بدستور معطل ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اتوار کو شروع ہونے والے مظاہروں میں سکیورٹی فورسز سے جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے اور ایک درجن سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سری نگر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پیر کو جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور انٹرنیٹ تک رسائی بدستور معطل ہے۔

اتوار کو بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں (لوک سبھا) کی ایک خالی نشست کے لیے سری نگر میں ضمنی انتخابات ہوئے جس کے لیے پہلے سے سخت سکیورٹی کو مزید چوکنا کر دیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق سری نگر، بڈگام اور گاندر بل کے اضلاع میں جہاں ووٹنگ ہونا تھی، موبائل انٹرنیٹ اور فکسڈ لائن براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی تھیں۔

تاہم حکام کی جانب سے انٹرنیٹ سروس کی معطلی کی تصدیق سے انکار کیا گیا تھا۔

کشمیر میں علیحدگی پسند راہنماؤں کی طرف سے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے لوگوں سے ہڑتال کی اپیل کی گئی تھی۔ پولیس حکام کے مطابق اس موقع پر مختلف علاقوں میں لوگ بھارت مخالف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔

ضلع بڈگام میں ایک ایسے ہی مظاہرے میں شامل افراد نے آگے بڑھنے سے روکے جانے پر پولیس پر پتھراؤ کیا۔

ایک پولیس عہدیدار نے بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کو بتایا کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پہلے آنسو گیس کا استعمال کیا اور بعد ازاں فائرنگ کی۔ یہاں فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہوگئے جب کہ بھارتی کشمیر کے دیگر حصوں میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کی مڈبھیڑ میں ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

لوک سبھا کی ایک اور خالی نشست پر بھارتی کشمیر کے علاقے اننت ناگ میں ضمنی انتخاب 12 اپریل کو ہونے والے ہیں۔

بھارتی کشمیر میں گزشتہ سال جولائی میں ایک علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے صورتحال کشیدہ چلی آ رہی ہے اور آئے روز کسی نہ کسی حصے سے مظاہرے اور احتجاج کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔

اس عرصے میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کی درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 84 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں جن میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

سری نگر سے موصولہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ووٹنگ کی مجموعی شرح 6.5 فی صد رہی۔ اندراج شدہ ساڑھے 12 لاکھ ووٹروں میں سے صرف 80000 ووٹروں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

بتایا جاتا ہے کہ علیحدگی پسندوں کی طرف سے بائیکاٹ کی کال کا ''اثر حاوی'' رہا۔ تاہم، بعض پولنگ مراکز پر ''بہت ہی کم تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اطلاعات ملی ہیں۔

اِسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ''پولنگ مراکز سنسان رہے اور جگہ جگہ پرتشدد مظاہرے ہوئے''۔ ادھر اسپتالوں میں زیر علاج زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔

مبینہ ہلاکتوں کے خلاف علیحدگی پسندوں نے دو دن تک ہڑتال کی کال دی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG