رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر میں جھڑپ، تین جنگجو اور دو بھارتی فوجی ہلاک


فائل فوٹو

عہدیداروں نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے عسکریت پسند مقامی کشمیری تھے اور ان کا تعلق سب سے بڑی مقامی عسکری تنظیم حزب المجاہدین سے تھا۔

یوسف جمیل

بھارتی کنٹرول کے کشمیر کے دارالحکومت سرینگر سے تقریبا" 55 کلو میٹر جنوب میں واقع شوپیان ضلع کے اَونیرا گاؤں میں ہفتے کی رات ہونے والی جھڑپ اتوار کی دوپہر کو تین عسکریت پسندوں کی ہلاکت پر ختم ہوئی۔ جھڑپ کے دوران دو بھارتی فوجی بھی مارے گئے جبکہ اُن کےچار ساتھی زخمی ہوگئے۔

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے پولیس سربراہ شیش پال وید نے اس کی تصدیق کی اور کہا کہ میں تین اور جنگجوؤں کو ہلاک کرنے پر اپنے بہادر سپاہیوں کی داد دیتا ہوں۔

سرینگر میں بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیہ نے کہا کہ مارے گئے فوجیوں کا تعلق بھارتی ریاستوں تامل ناڈو اور مہاراشٹر سے ہے-

عہدیداروں نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے عسکریت پسند مقامی کشمیری تھے اور ان کا تعلق سب سے بڑی مقامی عسکری تنظیم حزب المجاہدین سے تھا۔

بھارتی فوج ، مقامی پولیس کے عسکریت مخالف اسپیشل آپریشنز گروپ یا ایس او جی ، بھارت کے وفاقی پولیس فورس سی آر پی ایف اور نیم فوجی دستوں نے ملکر شورش زدہ کشمیر میں سرگرم مقامی اور غیر ملکی جنگجوؤں کے خلاف ایک زور دار فوجی مہم شروع کر رکھی ہے – مہم کے دوراں حالیہ ہفتوں کی جھڑپوں میں درجنوں عسکریت پسند مارے جاچکے ہیں جبکہ20 سے زائد فوجی اور دوسرے حفاظتی اہلکار بھی کام آگئے ۔

ڈائرکٹر جنرل آف پولیس شیش پال وید نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف 'آپریشن آل آوٹ' شروع کیا گیا ہے اور اُن کے بقول جن کشمیری نوجوانوں نے بندوق اُٹھائی ہے ان کے سامنے دو ہی آپشنز ہیں- گھر واپس آئیں یا حفاظتی دستوں کے ہاتھوں مارے جائیں۔

بھارتی وزیرِ دفاع ارون جیٹلے نے نئی دہلی میں بتایا کہ کشمیر میں جنگجو اپنی جانیں بچانے کے لئے راہِ فرار اختیار کرچکے ہیں۔ لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے ریاست کو مسلح باغیوں سے پاک کرنے کا تہیہ کر رکھا ہےاور انہیں لوگوں میں دہشت پیدا کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا جائے گا۔

متنازع کشمیر کے سیاسی منظر نامے میں چونکہ بھارت سے برسرِ پیکار عسکریت پسند مقامی لوگوں با لخصوص نوجوانوں میں خاصے مقبول ہیں جس کا اعتراف بھارتی عہدیداروں کو بھی ہے۔ وہ اکثر ان جھڑپوں کے دوران ان کی مدد کو دوڑ پڑتے ہیں اور ان کے لئے حفاظتی حصار توڑنا آسان بن جائے اس کے لئے حفاظتی دستوں پر پتھر پھینکتے ہیں۔

مظاہرین اور سنگباری کرنے والے ہجوموں پر حفاظتی دستوں کی فائرنگ اور دوسری کارروائیوں کے دوران اس سال اب تک 24 شہری ہلاک اور دوجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔ لیکن اس کے اور انسپکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد خان کے اس انتباہ کے باوجود کہ انکاونٹر سائٹس کے قریب جانا خود کُشی کرنے کے مترادف ہے یہ سلسلہ جاری ہے۔

اتوار کو بھی شوپیان میں ہوئی جھڑپ کے دوران مقامی لوگوں نے حفاظتی دستوں کے ساتھ دو دو ہاتھ کئے اور محصور عسکریت پسندوں کو مدد دینے کی غرض سے ان پر پتھراؤ کیا۔ حفاظتی دستوں نے پر تشدد مظاہرین پر گولی چلادی، پیلٹ گن استعمال کئے اور آنسو گیس چھوڑی۔ تیرہ افراد زخمی ہوگئے۔ شدید طور پر زخمی ہونے والے تین نوجوانوں کو بہتر علاج کے لئے سرینگر لایا گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ حفاظتی دستوں نے علاقے میں نجی املاک کو نقصان پہنچایا –

شمالی ضلع بانڈی پور کے حاجن علاقے سے یہ خبر آئی ہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف جاری ایک آپریشن کے دوران ان کے حملے میں ایک بھارتی فوجی اور دو پولیس والے زخمی ہو گئے ہیں۔

ادھر اتوار کو سرینگر میں سیاسی کارکنوں، وکلاء اور سول سوسائٹی ممبران کی ایک راونڈ ٹیبل کانفرس منعقد ہوئی جس میں آئین ہند کی دفعہ 35 –اے کا دفاع کرنے کے لئے مقامی اور بین الا قوامی سطح پر قانونی ماہرین کی مدد طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کانفرس علاقائی جماعت عوامی اتحاد پارٹی نے بلائی تھی جس کے سربراہ انجینئر رشید نے اس اہم معاملے پر غور و فکر اور لائحہ عمل طے کرنے کے لئے صوبائی اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔

آئین ہند کی دفعہ 35 اے کے تحت ریاست کی قانون سازیہ کو اس کے پشتنی باشندوں کی انتخاب کرنے اور ان کے لئے خصوصی حقوق اور استحقاق کا تعین کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ قدامت پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) کی پشت پناہی میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ، وی ،دی سٹیزنز ، نے دفعہ 35 اے کو بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے اور کشمیر میں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ اس آئینی ضمانت کو منسوخ کر سکتی ہے۔ عدالت میں دفعہ 370 جس کے تحت کشمیر کو بھارتی یونین میں خصوصی پوزیشن حاصل ہے ،کے خلاف بھی ایک درخوست زیرِ سماعت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG