رسائی کے لنکس

logo-print

رام مندر کی تعمیر کا آئندہ ماہ آغاز، تقریب میں مودی شریک ہوں گے


فائل فوٹو

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی آئندہ ماہ ایودھیا میں متنازع رام مندر کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شریک ہوں گے۔

ایودھیا میں 16 ویں صدی عیسوی میں تعمیر کی جانے والی بابری مسجد کے مقام پر مندر بنانے کا اعلان سخت گیر ہندو تنظیموں نے کیا تھا۔ مندر کی تعمیر کی نگرانی ایک ٹرسٹ کے ذریعے کی جا رہی ہے۔

ٹرسٹ نے اعلان کیا ہے کہ مندر کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب پانچ اگست کو ہو گی جو علمِ نجوم کے مطابق ہندوؤں کے لیے مبارک تاریخ ہے۔

ایک سال قبل پانچ اگست کو ہی بھارت نے مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے آئینی ترمیم کر کے اس کی نیم خود مختار خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔

جس مقام پر مندر کی تعمیر کی جا رہی ہے اسے بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حامی اور مخالفین دونوں ہی ایک علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

بی جے پی کے منشور میں دہائیوں سے شامل ہے کہ وہ مغل دور کی بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر ممکن بنائے گی۔ اسی طرح منشور میں یہ بھی شامل تھا کہ ریاست جموں و کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت کو ختم کر دیا جائے گا۔

ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ ریاست اتر پردیش (یو پی) کے شہر ایودھیا میں جس مقام پر بابری مسجد بنائی گئی تھی، یہ مقام ان کے بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے اور اس لیے یہاں رام مندر بننا چاہیے۔

بی جے پی کی حامی ہندو انتہا پسند جماعت 'وشوا ہندو پریشد' اور 'ورلڈ ہندو آرگنائزیشن' کے مطابق کرونا وائرس کے باعث مندر کی تعمیر کے سنگِ بنیاد کی تقریب میں محدود تعداد میں افراد کو مدعو کیا گیا ہے۔ البتہ یہ تقریب ٹی وی پر براہِ راست دکھائی جائے گی۔

سال 2019، بھارت میں بڑے فیصلوں کے لحاظ سے کیسا رہا؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:00 0:00

وشوا ہندو پریشد کے ترجمان ونود بنسل کے مطابق یہ مندر ہمیشہ 'ہندوتوا' کے جذبات کے ساتھ سماجی اور قومی ہم آہنگی میں مرکزی کردار ادا کرتا رہے گا۔

واضح رہے کہ 'ہندوتوا' کا مطلب ہندوؤں کی بااختیار ریاست کا قیام اور ہندو مذہب کے مطابق طرزِ زندگی ہے۔

جس مقام پر مندر کی تعمیر شروع کی جا رہی ہے اس پر گزشتہ ایک صدی سے تنازع تھا۔ گزشتہ برس نومبر میں بھارت کی سپریم کورٹ نے مسجد کے مقام پر مندر کی تعمیر اور مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ ایکڑ متبادل زمین دینے کے احکامات جاری کیے تھے۔

ایودھیا میں 1992 کے فسادات کے دوران انتہا پسندوں نے بابری مسجد کو مسمار کر دیا تھا جس کے بعد ملک بھر میں فرقہ وارانہ جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں۔ ان فسادات میں 2000 کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

بابری مسجد کیس کے فیصلے پر بھارتی شہریوں کا ردِ عمل
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:25 0:00

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کے فنِ تعمیر کے ایک ماہر نے رام مندر کے لیے جو نقشہ تجویز کیا ہے اس میں 160 فٹ بلند عمارت ہے جس کے پانچ گنبد بنائے جائیں گے۔

بھارت کے خبر رساں ادارے 'پریس ٹرسٹ آف انڈیا' کے مطابق اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ اور ہندو سادھو یوگی ادتیہ ناتھ نے درخواست کی ہے کہ نریندر مودی کے دورے کے موقع پر ایودھیا کی خاص طور پر صفائی کی جائے اور طہارت کی تقاریب منقعد کی جائیں جب کہ شہر کے تمام مندروں میں تیل کے چراغ جلائے جائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG